| ابلیس |
| ابتدا سے آج تک ہر سمت پھیلا ہے یہ دام |
| نسلِ آدم کو بنایا ہے ہوس کا اک غلام |
| میں نے ہی فرعون کو بخشا خدائی کا غرور |
| میں نے ہی قاروں کو سکھلایا خزانوں کا نظام |
| ہر زمانے میں نئے آذر، نئے بت خانے ہیں |
| ہر صدی میں میری محفل کا نیا ہے اہتمام |
| اب مشینوں کا زمانہ ہے، یہ برقی ہے جہاں |
| اب مری محنت کے بن ہوتا ہے میرا سارا کام |
| پھر بھی اک کانٹا کھٹکتا ہے مرے دل میں ابھی |
| اے مشیرو! کیا ہے اس امت کا اب احوالِ عام؟ |
| پہلا مشیر |
| ہاتھ میں ہر اک کے رکھ دی ایک جادو کی دکان |
| رات دن تکتا ہے اس کو، اب نہیں کچھ اور دھیان |
| گھنٹوں گھنٹوں انگلیاں چلتی ہیں اس شیشے پہ یوں |
| بھول جاتا ہے نمازیں، سن نہیں پاتا اذان |
| ہو گئی ہیں محفلیں خالی، ہیں تنہا سب کے سب |
| ایک کمرے میں ہیں سب، پھر بھی جدا سب کے جہان |
| دوسرا مشیر |
| میں نے ہر شے سے بڑھا ڈالا ہے سکّے کا وجود |
| ذہن و دل پر چھا گئی ہے اب فقط اک فکرِ سود |
| قرض کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے ساری قوم |
| توڑ ڈالیں سب ربا نے رب کی قائم کی حدود |
| آج خواہش ہی ہے ان کا دین، لذت ہی خدا |
| ہو گیا ہے جیب کے آگے ہی اب ان کا سجود |
| تیسرا مشیر |
| میں نے پھیلایا ہے ان کے ذہن میں ایسا سوال |
| کیا حدیثیں، کیا روایت، سب ہی ہیں بس قیل و قال |
| راویوں پر طعن، اسنادوں پہ شک، سب عام ہے |
| کون اب مانے گا اسنادوں کا وہ علمی کمال |
| عقل کو بخشا ہے میں نے وحی پر حاکم کا تاج |
| اب ہر اک آیت کا مطلب ہے فقط اپنا خیال |
| چوتھا مشیر |
| ایک امت تھی، اسے فرقوں میں بانٹا در بدر |
| ایک دوجے سے الجھتے ہیں، کٹاتے ہیں یہ سر |
| خانقاہوں پر جھکا دی میں نے ان کی ہر جبیں |
| مانگتے ہیں اب وہ قبروں سے مرادیں عمر بھر |
| بدعتوں کو دین کا حصہ بنایا شوق سے |
| ہو گئی سنت پرائی، رسم اپنی معتبر |
| ابلیس (اپنے مشیروں سے) |
| خوب ہیں یہ کارنامے، خوب ہے یہ سب فساد |
| پھر بھی ڈرتا ہوں کہ ہو جائے نہ ان میں اتحاد |
| ڈر ہے اس دن سے کہ جب کھولیں گے وہ قرآں کو پھر |
| روشنی سنت کی لے کر ہوگا ان کا اجتہاد |
| جب سند کی ڈور تھامے ہوں گے وہ اسلاف کی |
| پھر نہ کام آئے گا میرا یہ صدیوں کا عناد |
| جب دلوں میں ہوگی خالص ایک رب کی بندگی |
| پختہ ہو جائے گا پھر سے آخرت کا اعتقاد |
| اس لیے لازم ہے ان کو بحثوں میں الجھا رکھو |
| مسئلوں پر جنگ ہو، ہرگز نہ ہو ان میں جہاد |
| سو رہے ہیں وہ جو، ان کو اور گہری نیند دو |
| جاگ اٹھے تو پھر نہ ہوگی میری کوئی بھی مراد |
معلومات