کہتا ہے مجھے ہند کے شملے کا سوامی
کیوں تو نے چنی اپنے ہی مذہب کی یہ خامی؟
معبود ترا ایک ہے، باطل ہیں خدا سب
چھوڑی نہ مگر تو نے فرنگی کی غلامی!
صورت میں نصاریٰ ہے، تمدن میں یہودیت
باقی نہ رہی تجھ میں وہ تہذیبِ گرامی
شاہیں تھا، مگر چھوڑ دیا اوجِ فلک تو نے
زاغوں کی روش تجھ کو ہوئی زیبِ تمامی
فرعون کے دربار میں جو حق کا علم تھا
تجھ میں تو نظر آتی نہیں خوئے کلیمی
اب طور کی حاجت ہے نہ جلووں کی تمنا
سجدوں میں نہیں تیرے وہ اخلاصِ قدیمی
دل دھلتا ہے گر اشک بہائے کوئی شب کو
کٹ جاتی ہے اک پل میں گناہوں کی سیامی
سن لے یہ نوائے دلِ پُرسوز تو ہمراز
ہو جائے درِ شاہِ مدینہ پہ غلامی
سر خم جو رہے بارگہِ ختمِ رسلؐ میں
چھٹ جائے گی خود غیر کی چوکھٹ کی سلامی!

0
22