| سینے میں آرزوؤں کے کتنے مزار دیکھ |
| بجھتے ہوئے چراغ ہیں، اجڑا دیار دیکھ |
| مردہ ہے آرزو تو ہے مردہ یہ زندگی |
| ہر آرزو کے دم سے ہے یہ کاروبار دیکھ |
| مٹی میں دب کے دانہ جو پھوٹا تو پیڑ ہے |
| دفنائی آرزو میں بھی آتی بہار دیکھ |
| بیٹھا ہے کیوں مزاروں پہ؟ اٹھ اور کام کر |
| اپنی خودی سے بدلا ہوا روزگار دیکھ |
| شاہیں کا کام ہے کہ فضاؤں میں ہو رواں |
| اس کے پروں کے نیچے ہیں سب کوہسار دیکھ |
| جھکتا ہے سر جو ایک ہی در پر، وہ سر بلند |
| در در پہ جو جھکا ہے، اسے شرمسار دیکھ |
| ہمرازؔ! نقشِ پائے سلف پر ہی چل سدا |
| پھر اپنی آرزوؤں کا اک لالہ زار دیکھ |
معلومات