| حاضر وہ یہاں بھی ہے اور اس کے نشاں وہاں بھی |
| گو آنکھ سے اوجھل ہے مگر ہے وہ عیاں بھی |
| رفعت میں ہے وہ خالقِ افلاک و معلیٰ |
| ہو پاس رگِ جاں کے، وہ دل کا ہے اماں بھی |
| پوشیدہ نہیں اس سے کوئی رازِ جہاں کا |
| سنتا ہے صدائیں وہ رہے کوئی جہاں بھی |
| موجود وہی تھا جب کوئی شے نہ بنی تھی |
| اور ختم جہاں پر ہو، وہ باقی ہے وہاں بھی |
| ہر ذرّۂ ہستی ہے گواہ اس کی صفت کا |
| کرتا ہے بیاں حمد زمیں بھی اور زماں بھی |
| توحید کے شعلے سے دروں گرم ہے ہمراز |
| خالق کے کرم پر ہی تکیہ ہے یہاں بھی |
معلومات