بندۂ حق، رسولِ حق، تجھ پہ اتر گئی کتاب
تیری حیات سر بسر امتِ حق کا ہے نصاب
رتبۂ عبدہٗ ملا، اس سے بڑا شرف کہاں
رب کے حضور رات بھر، آنکھ میں اشکِ بے حساب
غارِ حرا کی خلوتیں، دشتِ عرب کی گرمیاں
جن سے اٹھا جہان میں فکر و نظر کا انقلاب
خاک نشیں تھا تو مگر، لرزہ بہ تختِ قیصری
فقر ترا غیور تھا، تخت و کلہ تھے سب سراب
تیری اطاعتوں سے ہی ہم کو خودی کی سلطنت
چھوڑ کے تیری راہ کو، قوم ہوئی ہے یوں خراب
تجھ پہ ہوا تمام دیں، تجھ پہ رسالتیں تمام
کوئی نبی نہ آئے گا، بند ہوا وحی کا باب
رب کی رضا سے حشر میں تیری شفاعتوں کی آس
شرط مگر یہی کہ ہو تیرا طریق انتخاب
صلِّ علیٰ ہے ہر نفس، لب پہ ہے یہ دعا مدام
دل سے اٹھیں گے اس طرح غفلت و جہل کے حجاب
مجھ کو بھی اے خدا ملے تیرے نبی کی پیروی
حوضِ نبی کا جام ہو، روزِ جزا میں کامیاب

0