صبر کرو
دھوپ کڑی، راہ کٹھن، پاؤں تھکے، سانس رکی
یار گئے، ساتھ چھٹا، آنکھ بھری، شام ڈھلی
دیر سہی، رب کی رضا، ہوگی سحر، صبح نئی
صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو
ابر گھرا، چاند چھپا، تیز ہوا، دیپ بجھا
شیشۂ دل ٹوٹ گیا، ہر وہ سہارا جو ملا
رب ہے بڑا، سب کی سنے، اس سے کہو، لب پہ دعا
صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو
زخم ہرے، درد سوا، آنکھ میں اشکوں کا نگر
رات بڑی دیر سے ہے، دور بہت ہے یہ سحر
بیت ہی جائے گا یہ دکھ، ڈھل ہی چلا شب کا پہر
صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو
صبر کا پھل پاؤ گے تم، وعدۂ حق ہے یہ یقیں
ساتھ ہے صابر کے سدا ربِّ جہاں، حقِّ مبیں
رب کی معیت ہے اگر، ڈر کا گزر ہو ہی نہیں
صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو
گردشِ دوراں ہے تو کیا، دل کو سنبھالے ہی رہو
راہ میں کانٹے ہوں اگر، ہنس کے انھیں پار کرو
کہتے ہیں ہمرازؔ یہی، بات مری یاد رکھو
صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو

0