| میں ہوں آپ ہی میں کہیں تو گم میں تو آپ ہی میں سرابہوں
|
| جو نہ تم سے کُھل سکا ہے کبھی ، ہاں وہی میں عشق کا باب ہوں
|
| میں سمجھ میں ہی نہیں آسکوں کیا میں کوئی ایسا سوال ہوں
|
| تو الٹ کے دیکھ ورق ورق میں تو حسرتوں کی کتاب ہوں
|
| جو سوال ہیں سبھی پوچھۓ مجھے بے رخی سے نہ دیکھۓ
|
| جو نہ ہو سکے کبھی مجھ سے حل میں وہ ایک ایسا جواب ہوں
|
|
|