Circle Image

Arshid Abdullah

@Eshyar

آج پھر ایسے ملے جیسے کہ ہم انجان ہیں
بچپنا باقی ہے اب بھی اب بھی ہم نادان ہیں
مختصر ہے زندگی ضایع نہ اسکو کیجۓ
پل دو پل کی زندگی ہے ہم یہاں مہمان ہیں
ہوں کٹھن سب راستے تاریکیاں ہوں زور پہ
ہم سفر ہو ساتھ تو رستے سبھی آسان ہیں

0
3
شروع نام سے ہم خدا کے کریں
قدم سے قدم ہم ملا کے چلیں
ادارہ کوئی تو ہو ایسا یہاں
کہ تعلیم اعلیٰ ملے گی جہاں
ارادہ کِیا مرتضیٰ بیگ نے
مکمل کِیا جس کو جاوید نے

0
8
عشق انگارہ ہے جو دل میں دہکتا جاۓ
یہ وہ احساس ہے دل جس سے دھڑکتا جاۓ
نوش جس نے یہ کی، جانا ہے اسی نے کیا ہے
عشق وہ مے ہے کہ جس نے پی، بہکتا جاۓ
جذبۂِ عشق وہ جذبہ ہے جو مجنوں کر دے
جوگ جس نے یہ لگایا وہ بھٹکتا جاۓ

0
10
تو مجھ سے دور ہو کے بھی میرے قریب ہے
کیوں فاصلہ ہو تجھ سے تو میرا حبیب ہے
آکاش سے زمین ملا کرتی ہے جہاں
وہ جا تلاشتا ہے؟ یہ دل بھی عجیب ہے
تیری ستم ظریفی سے یہ دل اداس ہے
تو جس پہ مہرباں ہے وہ میرا رقیب ہے

0
12
سولی پہ چڑھا کر ہنستے ہیں، کیا جان ہماری سستی ہے
یہ کیسا زمانہ آیا ہے، ہر گام پہ طاقت ڈستی ہے
یہ حال ہوا ہے دنیا کا، بے حال کہیں تو بہتر ہے
ہر اور یہاں پر ماتم ہے، ہر اور یہاں پر پستی ہے
دو وقت کی روٹی کو اکثر، کچھ لوگ ترستے رہتے ہیں
کچھ لوگ نرالے ایسے ہیں، ہر شام میں جن کی مستی ہے

0
8
میں نے مطرب سے کہا ساز بجاتا جاۓ
اپنی دھن پہ مرے شعروں کو سجاتا جاۓ
بھولنے والوں سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی
وقت کا طوفاں مرے نقش مٹاتا جاۓ
خون کے آنسو رلا کر وہ گیا ہے ظالم
گر سنائ ہے سزا جرم بتاتا جاۓ

0
11
بے فکری میں گزرا ہوتا کوئ لمحہ ایسا ہوتا
سب ہیں جیسے ویسا ہوتا میں بھی کتنا اچھا ہوتا
مٹی کنکر باغ و بن ان میں کھیلا مہکا سب کا بچپن
کھیل کھلونے کھیلے ہوتے بچپن میں نے جانا ہوتا
گرتے پڑتے دوڑ لگاتے رندوں کو شرمندہ کرتے
گلیوں گلیوں جھومتے گاتے جی بھی میرا بہلا ہوتا

0
7
اب کوئی مشورہ کام نہیں آئے گا
مجھے زندگی بھر آرام نہیں آئے گا
میں نے کی ہے محبت تجھ سے خودکُشی کی
تیرےسر کوئی الزام نہیں آئے گا
میرا پیغام آتا ہے تو جلا دیتے ہو
چلو اب کبھی کوئی پیام نہیں آئے گا

0
9
میں ہوں آپ ہی میں کہیں تو گم میں تو آپ ہی میں سرابہوں
جو نہ تم سے کُھل سکا ہے کبھی ، ہاں وہی میں عشق کا باب ہوں
میں سمجھ میں ہی نہیں آسکوں کیا میں کوئی ایسا سوال ہوں
تو الٹ کے دیکھ ورق ورق میں تو حسرتوں کی کتاب ہوں
جو سوال ہیں سبھی پوچھۓ مجھے بے رخی سے نہ دیکھۓ
جو نہ ہو سکے کبھی مجھ سے حل میں وہ ایک ایسا جواب ہوں

0
10
کچھ تو میری حسرتوں کا بھی کبھی انجام ہوگا
نا ملے در یار کا اس کی گلی میں نام ہوگا
آج پھر آۓ نہیں وعدہ خلافی کر گۓ پھر
دل یہ کہتا ہے ابھی مصروف ہونگے کام ہوگا
ان کو فرصت ہے کہاں فریاد وہ میری سنیں کیوں
غیر کی باہوں میں سمٹے ہیں انہیں آرام ہوگا

0
7
ہر فرد خدا دشمن ہر چند سیاست ہے
یہ کیسی پرستش ہے یہ کیسی عبادت ہے
جو گھر تھا خدا کا وہ جاگیر ہے اوروں کی
فرقوں کی حکومت میں ہر جا یہ عبارت ہے
تعبیر کرے کوئی اقبال کے خوابوں کی
بے شک وہ صداقت ہے بے شک وہ حقیقت ہے

0
7
جانے کیا میری محبت بھی صلہ دیگی
جان لیگی میری یا اس سے ملا دیگی
سوچ کے ساغر سے میں نے کچھ چرایا ہے
سوچ ایسی جو تیری دنیا ہلا دیگی
تو نے آنگن میں بہاریں تو سجائ ہیں
یہ بھی ممکن ہے خزاں سب کچھ مٹا دیگی

0
8
داغِ دل میں نے چھپاۓ رکھے
گل ہی ہونٹوں پہ سجاۓ رکھے
دل ہے میرا زخم زخم لیکن
میں نے رشتے سب نبھاۓ رکھے
مجھ سے کوئ جب نہیں تعلق
کیوں کوئی مجھ کو ستاۓ رکھے

0
11
جسکو لٹنا ہے کیوں ویرانہ وہ آباد کریں؟
دل جو ناشاد ہے کیوں اور اسے ناشاد کریں؟
نا سنی جائیں جہاں دل کی صدائیں وہاں پر
دستکیں در پہ کیوں ایسے دیں کیوں فریاد کریں؟
ہے جنوں طاری تو بہتر ہے یہی تم بھی میں بھی
مل کے جو دنیا سجائی تھی وہ برباد کریں

0
25
پوچھتا پتا تم سے جو مرا زمانہ ہے
یہ مزار ہی میرا اب میرا ٹھکانا ہے
ڈور میری قسمت کی ہاتھ میں اسی کے ہے
وہ جہاں بھی لے جاۓ مجھ کو چلتے جانا ہے
سادگی کے دیوانے سادگی سے چلتے ہیں
سادہ ان فقیروں کو کب جہاں نے مانا ہے

0
17
میرے نالوں کو ظالم ہنسی میں اڈاتا ہے
تجھے کیا خبر روشن شَمَع کو بجھاتا ہے
ہے دستور پروانا جلے اور خاک ہو
محبت کرے دل اور روحوں کو چاک ہو
سبق عشق کا پڑھ لے تو عالِم ہو جاۓ تو
فنا عشق میں ہو جاۓ عالَم ہو جاۓ تو

0
20
کچھ نا مکمل سے خواب
چند لمحے بکھرے اِدھر اُدھر
سميٹ لیتا ہوں گرد آلود کچھ ٹکڑے
روٹی کے بکھرے ہوئے زمین سے
شاید قلم کبھی صلہ دے گی

0
34
میں ہوش کی دنیا کو خیر باد کہ چکا ہوں
اپنے دلِ آباد کو برباد کر چکا ہوں
میری ہر بات اب زہر سی لگتی ہے خود مجھ کو
اپنی آج کل کوئی سمجھ نہیں ہے مجھ کو
خُدا راہ میری نادانیوں کو نظر انداز کیجیے
میرے اندر کے شولوں کو نہ اور ہوا دیجیے

0
19
میں ہوش کی بستیوں کو ترک کر چکا ہوں
دلِ آشفتہ کو خود، دستِ خنجر سپرد کر چکا ہوں
اب ہر نطق، ہر خیال، زہراب سا محسوس ہوتا ہے
میری ہی موجودگی مجھ پر ایک معما سی بن چکی ہے
اے صاحبِ عرش! میری نادانیوں پر چشمِ عنایت فرما
میرے باطن کے شعلوں کو مزید زبوں نہ فرما

0
25
قید مجھ کو رکھا تھا ماضی کی صداؤں نے
رہائی مجھ کو دلائی تبریز سے آتی ہواؤں نے
گھر گرہستی سب جنجال چھوڑ آیا تھا
محفلیں، مخلوقِ خدا سب چھوڑ آیا تھا
اس واسطے اٹھ کے آیا تھا کہ تزاد نہ ہو
میری خودی میرے نفس کا سرمایا برباد نہ ہو

0
22
ایک ہی اچھا کِیا دنیا تو نے کام
نام سے میرے ہے جوڑا اسکا جو نام
درد ہوتا ہے مجھے بھی کہ ہوں انسان
عشق میں لوٹ آیا ہوں ہو کر میں ناکام
تھام کے ہم نے رکھا ہے دامنِ عشق
دیکھ لیں گے ہم بھی اب جو بھی ہو انجام

0
21
مقابل رہو تم نظر تو ملاؤ
جو دل میں ہے آنکھوں سے مجھ کو سناؤ
ہزاروں سوالات اُمَڈتے رہے ہیں
دلِ بے صَبَر کو نہ تم آزماؤ
شکستہ میں ہو کر ترے در پہ آیا
سوالی میں سائل مجھے نا اٹھاؤ

0
25
شبِ قربت میں فرقت ہے
عجب شے بھی محبت ہے
شمع تو ہے میں پروانا
کہوں کیا میری حسرت ہے
مرا دل ہے مریضِ عشق
جسے جلنے کی حسرت ہے

0
40
نگاہوں نے سب کچھ سکوتاً جلایا
محبت نے ہر رنگ اپنا گنوایا
سدا زیر کرتی مجھے حسرتوں سے
رہائی ملی تو تمنا نے مارا
نہ پایا سکوں میں نے خواہش کے رستے
نہ صبر آزمایا، نہ دل کو سنبھالا

0
24
عجب ہے حال دنیا کا عجب حالت مری کی ہے
بڑی مشکل سے جی ہے زندگی میں نے جو بھی جی ہے
کبھی غربت کبھی دنیا کے طعنوں نے ستایا ہے
غریبی اور رسوائی یہی میری کمائی ہے
جہانِ فانی میں باقی رہے گا کیا بتا مجھ کو
تو بھی فانی ہے تو گھبراتا ہے کیوں جان جانی ہے

0
23
کیا کر فکر اپنی میرا کیا ہے میں تو اچھا ہوں
جہانِ عشق میں روحِ پریشاں ہوں میں تنہا ہوں
مرے سینے میں اس دردِ مسلسل کی وجہ تو ہے
دلِ برباد سنبھالے میں کیوں پھر تجھ کو رکھتا ہوں
ہزاروں درد لب پر ہیں سجاۓ نغموں کی صورت
طلسمی لفظ ہے یہ صبر، دہراتا میں رہتا ہوں

0
55
جب اِلتفاتِ خلق ہی آزار بن جائے کہیں
جب مہربانی بن کے دل پر وار بن جائے کہیں
جب خامشی بھی گفتگو کے بدلے بہتر ہو کبھی
جب وصل کی خواہش بھی سوگوار بن جائے کہیں
جب تنہائیاں خود تجھے ہم راز جیسی لگنے لگیں
جب آئنے میں دیکھ کر خود کو کوئی سمجھے نہ تُو

0
24
گفتگو بھی مر گئی ہے، بحث بھی ہے خاک میں
اب فقط آواز باقی، اور وہ بھی بے مدعا
کوئی سنتا ہی نہیں ہے، بس زبانیں ہیں رواں
کون کس کو کیا بتائے، گم ہوا ہر مدعا
اک زمانہ تھا کبھی جب بات میں کچھ بات تھی
اب جو کچھ ہے بے سبب ہے اور سب کچھ بے وجہ

0
20
ہر روز اک فکر ستاتی ہے مجھ کو
ہر روز اک فکر سے بھاگتا ہوں میں
میں بالکل ٹھیک نہیں کہوں کیسے
ہوں بالکل ٹھیک یہ کہَّتا ہوں میں
میرے اندر ہی ہے معرکہ برپا
خود کو ہی ہارتا دیکھتا ہوں میں

0
42
شور و غل ہے شہر میں آج عید ہے
جشن کا بس ہے سماں آج عید ہے
عید ہے ہاں عید ہے امید ہے
کھلکھلاتے بچوں کی آج عید ہے
صبر کی اخلاص کی تاکید ہے
سنتِ ابراھیم ہے آج عید ہے

0
32
غنچے کھلکھلاتے ہیں جب وہ مسکراتے ہیں
ان کے اک تبسم سے گُل شباب پاتے ہیں
رشک ان پہ کرتا ہے گل گلاب کا دیکھو
پھول سارے گلشن کے ان سے زیب پاتے ہیں
بلبلوں کے نالوں کو جیسے ساز ملتا ہے
لب پہ ان کے ہو جنبش بھنورے گیت گاتے ہیں

0
40
وہ پرسانِ حال ہوا ہے ؟ اگر ہوا ہے تو بتلا دو
اس سے کہہ دو اس کے خط وہیں رکھے ہیں جا کر جلا دو
اب کیوں آۓ جاتا ہے وہ قریب میرے؟ دور ہی رہے
میں نے کب اُس سے ایسا کہا ہے،محبتوں کا صلہ دو
مجھ سے وہ دوریاں ہی بناۓ رکھے گا تو بہتر ہے
انجامِ قربت معلوم ہے،کیوں بجھے شعلوں کو ہوا دو

0
27
مانَندِ عروضی مجھ کو وہ ٹکڑوں میں بانٹتا ہے
کوئی شعر وہ سمجھ کر ترتیب دے رہا ہے
دیکھے حرکت ہر حرف کی دیکھے سکون بھی وہ
آہنگ بنا بنا کے وہ اوزان جانچتا ہے
وہ بے وزن پاۓ یکسر موزوں کلام ہو پھر بھی
ارکان بھی خود ہی دے کے ہر رکن تولتا ہے

0
43
تمہیں علم و عرفاں کی وسعت ملے
تمہیں عارفوں کی ہی صحبت ملے
کبھی غم ترے دل پہ دستک نہ دے
کبھی آنکھ نم بھی دکھائی نہ دے
کرو بات تم تو کرو وہ سہی
قلم سے لکھو تو ہو حرفِ سہی

0
52
اپنی حالت ایسی ہے ہم ہنستے ہیں نا روتے ہیں
کہتے کچھ بھی ہم نہیں خود ہی سے ہم بس لڑتے ہیں
گھر میں میرے گھر سی کوئی بات بالکل بھی نہیں
گھر سے بہتر اچھا ہے ویرانے کو ہم جاتے ہیں
کوئی منظر اب لبھاتا ہی نہیں ہم کیا کریں
اپنے زخموں کو جو رستا دیکھیں تو ہم ہنستے ہیں

0
48
رہی نا مکمل ہی اپنی کہانی
گئی ہاتھ سے یوں ہی اپنی جوانی
چلو میں بھی سجدے میں جا کر کے دیکھوں
خدا سےہے تیری شکایت لگانی
کوئی چارہ سازوں کو لے کر کے آۓ
رفاقت انہیں بھی ہے مجھ سے نبھانی

0
41
قسمت کو یہاں اپنی کس نے ہی ہرایا ہے
مرضی سے نہیں آیا جو بھی یہاں آیا ہے
ہاں عشق ہی اول ہے ہاں عشق ہی آخر ہے
اس عشق کے صدقے ہی دنیا کو بسایا ہے
گردش میں ہیں ہر دم دیکھو چاند ستارے بھی
برسوں سے محبت کو اس طرح نبھایا ہے

0
35
نظم: “خدا میرے”
خدا میرے!
میری آنکھوں کو کر دے پتھر،
کہ اب کوئی منظر دکھائی نہ دے،
یہ دنیا، یہ چہرے، یہ بوسیدہ لمحے،
یہ سب بے معنی، یہ سب بے اثر۔

0
59
اس طرح درد سے میرے ان کو آشنا کر
یا رب وہ مسکرائیں اپنا ہی گھر جلا کر
تنہا وہ اس طرح سے میری طرح پڑا ہو
وہ زار زار روۓ خود کو گلے لگا کر
دل روۓ اور اس کے نالہ نہ ہو لبوں پر
وہ زخم اپنے دھوۓ اپنا لہو بہا کر

0
72
مجھے تم سے بےجا شِکایت نہیں ہے
تری اے مسیحا عنایت نہیں ہے
وفا کیجۓ گر اُٹھایا الم یہ
محبت ہے صاحب سیاست نہیں ہے
وفا کا صلہ ہم وفا مانتے ہیں
ترے ہاں مگر یہ روایت نہیں ہے

0
66
پھر تجھ سے کوئی بات ہو پھر کوئی بہانہ بنے
پھر باتیں کریں لوگ پھر سے کوئی فسانہ بنے
پھر مجروح تو دل کرے میرا اک نیا زخم دے
پھر اک بار میرا جگر تیرا ہی نشانہ بنے
پھر سے دوست بن کے مجھے بے یار و مدد گار کر
پھر میرا تماشہ بنے پھر سے تو یگانہ بنے

95
گزر گئی یہ شب بھی بیداری میں
ترے خیالوں ہی کی سرشاری میں
گراں بہا ہے تنہائی کہ مجھ کو
ہے لطف آتا مردم بےزاری میں
مجھے شکایت کرنی آتی کب ہے
سو بیتے ہر لمحہ آہ و زاری میں

0
72
میں غریب ہوں یہ بھی سچ ہے گھر میں بھی چولہا
کم مرے جلتا ہے
لہو بیچ آؤں میں تب کبھی کہیں جا کے گھر مرا چلتا ہے
مری مفلسی مرا جرم ہے تو بجا ہے مجھ کو سزا ملے
کہ خزاں میں دیکھ لو گر کے پتّا بھی اپنا رنگ بدلتا ہے
سنو ایک بات تو کہنی ہے مگر تم سے سچ ہے جو با خدا

0
3
97
اب مری آنکھ کو بھی خواب نہیں
وہ حقیقت ہے گر سراب نہیں
جو شکایت ہے میرے منہ پہ کہو
بے رخی تو کوئی جواب نہیں
کمسنی میں خطا معاف سہی
گل پہ آ یا ابھی شباب نہیں

122
باقی نہ کچھ رہا راکھ کرے تپتا صحرا
جو چلے لُو ہے مٹاۓ مرے ہے نقشِ پا
خانہ بدوش ہوں در سفرِ صحرا ہوں میں
میرا نہ گھر کوئی ہے نا ٹھکانا ہے میرا
ایک سراب فقط ہوا حاصل یاں مجھ کو
ریگِ رواں مجھے اب ہے نظر آۓ دریا

0
60
زخم میرا ہرا ہو بھی جاۓ تو کیا
درد میری دوا ہو بھی جاۓ تو کیا
دل پگھلنا نہیں بات بننی نہیں
اس سے اب سامنا ہو بھی جا ۓ تو کیا
تو نے چھوڈا جہاں وہ وہاں اب نہیں
سامنے وہ کھڈا ہوبھی جاۓ تو کیا

0
45
رشتے ناطے بندھن قطع یہ کرتے ہیں
وقتِ حاجت اپنے چھوڈ ہی جاتے ہیں
کہتے ہیں مجنوں پتھر بھی مجھے ماریں
دیوانے ہیں دیوانا مجھے کہتے ہیں
گفتارِ شیریں تیرے یہ طلسمِ لب
دل پر میرے یہ ظالم گراں آتے ہیں

0
76
الِف یہ قد ترا کیا ہے تری گَڑھائی کیا کہۓ
سَراپا خطِ نستعلیق میں لکھائی کیا کہۓ
کہے رقیب جو ہے میری غمگساری کی تم سے
نظر مجھے کفِ قاتل میں کلی آئی کیا کہۓ
ترے لبوں سے برساتیں جو برسیں پھولوں کی ہمدم
مرے چمن میں ایسے ہے بہار آئی کیا کہۓ

0
103
ہے لگی آگ سینے میں میرے
ہاۓ ارمان جلتے ہیں میرے
یہ نہ ہو تم بھی راکھ ہو جاؤ
ہے نہیں آگ قابو میں میرے
یوں تو میں بھول ہی چکا سب کو
ہر گھڑی تم ہو دھیان میں میرے

0
66
شامِ غم تو بھی کیا گزر جاۓ گی
میرے پہلُو سے جا کدھر جاۓ گی
تجھ سے خوگر کہ مٹ ہی جاؤں گا میں
تو جا گر چیر کر جگر جاۓ گی
تو نے عہدِ وفا ،وفا ہی نا کیا
میں سمجھا تھا یہیں ٹھہر جاۓ گی

0
69
اس کی فرقت میں خدا جانے میں کیا کر تا تھا
بے خودی شعر پڑھاتی تھی غزل کہتا تھا
ہمسفر جس کو سمجھتا تھا یقیں تھا جس پر
دل پہ تھی اس کی حکومت وہ یہیں رہتا تھا
وہ مقابل ہے تو بت سا یوں کھڑا کیوں ہوں میں
دیکھتے ہی اسے ان آنکھوں کو بھر آنا تھا

0
168
تو سدا ہی ہے مرے روبرو
بے صدا رہے سدا گفتگو
تو کرم تو کر مرے حال پر
تری دید ہو ہے یہ آرزو
تو خیال ہے تو مرا بھرم
پھروں ڈھونڈتا تجھے کو بہ کو

0
140
اے مسافر دشت ہو چاہے ہو کوئ صحرا
کوئ گھر جیسی شے مل جاۓ تو خبر کرنا
جسے اپنا کہہ سکو تم ایسا کوئ اپنا
دلِ مخلص ہی کہیں مل جاۓ تو خبر کرنا
ہے جہاں میں چار سُو کثرت آدمی کی لیکن
کوئ انسان سا مل جاۓ تو خبر کرنا

0
87