| نہ کٹھن سفر ہو تو اور کیا ہو مرا ہم سفر ہی مریب ہے |
| مجھے جان کر یہ خوشی ہوئی مرا اختتام قریب ہے |
| یہ کراہتیں یہ وضاحتیں یہ ہمارے بیچ کی دوریاں |
| نہ مُحَبَّتیں رہیں درمیاں نہ سکوں ہی ہم کو نصیب ہے |
| ہمیں تجھ سے غم کے سوا نہ کچھ ملا، زندگی تراشکریہ |
| مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیں، مری شخصیت ہی عجیب ہے |
| جو رہے سو ہم رہے باوفا، یہ غلط ہوا یہ قصور ہے |
| مجھے کھینچۓ کیوں نہ دار پرکہ صلہ وفا کا سلیب ہے |
| مری غلطِیاں بے شمار ہیں مرے جرم بھی بے حساب ہیں |
| ترا جو بھی ہو نقطۂ نظر، وہ خدا ہی میرا حسیب ہے |
| نہ ہی دل میں کوئی ملال ہے نہ لبوں پہ میرے سوال ہے |
| میں نہ لڑ سکوں کہ نہ بس چلے، مری تیغ تیغِ شکیب ہے |
| نہ یقیں رہا نہ گماں رہا کہ ہے اضطراب سی کیفیت |
| سنوں کس کی بات بتاؤ میں، یہاں دل ذہَن کا نقیب ہے |
| یہ مباحثے یہ غلط بیانیاں یہ فضول مناظرے |
| یہاں سب کو سب سے ہیں نفرتیں یہاں کون کس کا حبیب ہے |
معلومات