عشق انگارہ ہے جو دل میں دہکتا جاۓ
یہ وہ احساس ہے دل جس سے دھڑکتا جاۓ
نوش جس نے یہ کی، جانا ہے اسی نے کیا ہے
عشق وہ مے ہے کہ جس نے پی، بہکتا جاۓ
جذبۂِ عشق وہ جذبہ ہے جو مجنوں کر دے
جوگ جس نے یہ لگایا وہ بھٹکتا جاۓ
عشق پھر عشق ہی ہے زور چلے ہے کسکا
شعلہ اک بار جو دہکا تو بھڑکتا جاۓ
حسن تیرا مرے محبوب گلِ خطمی ہے
جتنا مرجھاۓ ہے اتنا ہی مہکتا جاۓ
تو وہ گل ہے خزاں کا جس پہ شباب آیا ہے
بلبلِ نالاں جسے دیکھ چہکتا جاۓ

0
5