آج پھر ایسے ملے جیسے کہ ہم انجان ہیں
بچپنا باقی ہے اب بھی اب بھی ہم نادان ہیں
مختصر ہے زندگی ضایع نہ اسکو کیجۓ
پل دو پل کی زندگی ہے ہم یہاں مہمان ہیں
ہوں کٹھن سب راستے تاریکیاں ہوں زور پہ
ہم سفر ہو ساتھ تو رستے سبھی آسان ہیں
تیرا جانا بھی قیامت ڈھا گیا ہے سر بہ سر
پہلے جو آباد تھے وہ شہر اب ویران ہیں
مسکراہٹ سے تری کھِلتے رہے تھے جو چمن
بعد تیرے جانِ جاں اب وہ چمن سنسان ہیں
ہم نے حاضر سر کو رکھا اک اشارہ جب ہوا
کیا خبر تھی ہم ضرورت کا تری سامان ہیں

0
3