| سولی پہ چڑھا کر ہنستے ہیں، کیا جان ہماری سستی ہے |
| یہ کیسا زمانہ آیا ہے، ہر گام پہ طاقت ڈستی ہے |
| یہ حال ہوا ہے دنیا کا، بے حال کہیں تو بہتر ہے |
| ہر اور یہاں پر ماتم ہے، ہر اور یہاں پر پستی ہے |
| دو وقت کی روٹی کو اکثر، کچھ لوگ ترستے رہتے ہیں |
| کچھ لوگ نرالے ایسے ہیں، ہر شام میں جن کی مستی ہے |
| آرام نہیں ملتا اک پل، بے چین ہیں جو دل رکھتے ہیں |
| بے دل بھی یہیں پر رہتے ہیں، ایسی ہی عجب یہ بستی ہے |
| کچھ خواب دکھاۓ جائیں گے، کچھ باتیں بنائی جائیں گی |
| باطل کی زباں جو ہے شیریں، ایسے ہی شکنجہ کستی ہے |
| دکھ درد بتائیں ہم کس کو، ہم آس لگائیں کس در سے |
| اک نام میں یا رب بس تیرے، امید ہماری بستی ہے |
| جب یاس کا عالم ہو طاری، تب تیری ہی جانب آتے ہیں |
| جو نار کو گلشن کرتا ہے، یا الّلہ تو وہ ہستی ہے |
معلومات