| شروع نام سے ہم خدا کے کریں |
| قدم سے قدم ہم ملا کے چلیں |
| ادارہ کوئی تو ہو ایسا یہاں |
| کہ تعلیم اعلیٰ ملے گی جہاں |
| ارادہ کِیا مرتضیٰ بیگ نے |
| مکمل کِیا جس کو جاوید نے |
| کہ اب رنگ لائیں گی سبھی کاوشیں |
| ملیں گی یقیناً سبھی منزلیں |
| ستارے یہاں جگمگاتے رہیں |
| جو آئیں یہاں فیض پاتے رہیں |
| ہو تاروں سے آباد یہ کہکشاں |
| ہمیں جاں سے پیارا ہے یہ گلسِتاں |
| یہاں علم کا بول بالا رہے |
| چراغِ سخن یہ جلاتا رہے |
| لبوں پر دعا یہ ہمیشہ رہے |
| ادارہ ہمارا سلامت رہے |
معلومات