Circle Image

شاہ رئیس شمالی

@shaw

سر پہ دستار نہیں ہاتھ میں ہتھیار نہیں
دل وفادار نہیں آنکھ حیادار نہیں
بھول بیٹھے ہیں شریعت کے تقاضے اکثر
ہیں مسلمان بہت پر کوئی معیار نہیں

1
68
ہم تو تم پر مر چکے تھے
زندہ تم نے کر دیا ہے
زندگی بے کیف سی تھی
رنگ اس میں بھر دیا ہے

1
6
بچپن کے حسیں شوخ زمانے سے اُبھر کر
اور پند و نصیحت سے بھر پور نکھر کر
ہم عمر کی بس آخری سیڑھی سے اتر کر
پہنچے ہیں بڑھاپے میں جوانی سے گذر کر

0
7
ہم بھی خوش وضع ہوا کرتے تھے
لوگ ہم پر بھی مرا کرتے تھے
تجھ کو معلومِ ہے جی ہم بھی کبھی
یوسفِ وقت ہوا کرتے تھے

0
10
دل کو آسودگی سے کیا لینا
اور شائستگی سے کیا مطلب
یہ تو اپنے ہی من کا موجی ہے
اس کو سنجیدگی سے کیا مطلب

0
8
پاگل ہوں جو دنیا میں وفا ڈھونڈ رہا ہوں
کانٹوں میں میں پھولوں کی ادا ڈھونڈ رہا ہوں
پھرتا ہوں ہواؤں میں، فضاؤں میں کبھی میں
معلوم نہیں مجھ کو کہ کیا ڈھونڈ رہا ہوں

0
15
بہت ہی دور سے کھنچی گئی تصویر لگتے ہو
کسی دیوارِ کی مٹتی ہوئی تحریر لگتے ہو
بڑے مبہم سے لگتے ہو بڑے مدھم سے لگتے ہو
مرے بکھرے ہوئے خوابوں کی تم تعبیر لگتے ہو

0
12
دل میں اک نقش بنا رکھا ہے
باقی ہر عکس مٹا رکھا ہے
سب کو نظروں سے گرا کر میں نے
تجھ کو آنکھوں میں بٹھا رکھا ہے

0
17
دل نہیں رکھا ، تجھے دل میں مکیں رکھا ہے
تو نے بس دل ہے رکھا دل میں نہیں رکھا ہے
تو نے رکھا تھا جہاں اپنے قدم اے جانا
اُس جگہ میں نے صنم اپنی جبیں رکھا ہے
خود تو رہ سکتا نہیں یونہی جوان اور حسین
میں نے یادوں کو جواں اور حسیں رکھا ہے

0
32
ایک طوفاں چھپا کے بیٹھے ہیں
دل کے ارماں دبا کے بیٹھے ہیں
کیوں الجھتے ہو ہم سے تم صاحب
ہم تو سب کچھ گنوا کے بیٹھے ہیں

0
31
اسفل کو رب نے احسن تقویم کر دیا
انساں بنا کے صاحب تفہیم کر دیا
مسجود کرکے لائق تعظیم کر دیا
یوں ہر بشر کو قابل تکریم کر دیا

1
56
ہم نے پھولوں کو ہواؤں سے اُلجھتے دیکھا
بجلیوں سے کبھی طوفانوں سے لڑتے دیکھا
بادِ باران اورِ طوفانِ تو گزرے لیکن
پھول کو اپنی جگہ پھر بھی مہکتے دیکھا

2
59
بڑے تھے تم بڑے رہتے تو اچھا تھا
اصولوں پر کھڑے رہتے تو اچھا تھا
کبھی پی پی، کبھی لیگی، کبھی پی ٹی
سیاست سے بچے رہتے تو اچھا تھا
ہوا کے دوش پر اڑنے لگے یک دم
تم اپنوں سے جُڑے رہتے تو اچھا تھا

71
ہمارے بن میں کبھی کِھلتے تھے وہ پھول تمام
اُچھلتے کودتے پھرتے تھے بس عجولِ تمام
درخت کٹ گئے جنگل ہوا امولِ تمام
پھر آگئیں جو مشینیں ہوئے وہ مُول تمام
ہرا بھرا تھا بید و بُرج سے چارِ سو
ہوا وہ جھاڑ ختم بن ہوا فضول تمام

0
59
تمہیں بس غور سے دیکھا تھا پل بھر
دل و جاں پر عبارت ہو گئے ہو
نظر تم پر سے ہٹتی ہی نہیں ہے
ان آنکھوں کی ضرورت ہو گئے ہو
رئیس اٹھو میاں ! تم ہوش میں آؤ
کہاں تم غرقِ الفت ہو گئے ہو

0
58
جذبات کی موجوں کو رواں کر نہیں سکتا
احساس کو لفظوں میں بیاں کر نہیں سکتا
انجان سا طوفان بپا ہے مرے دل میں
اس کیفیت دل کو عیاں کر نہیں سکتا

75
دید کی حسرت لیئے سینے میں کل شب رئیسؔ
یار کے کوچے میں جا کرسعی کرتے رہے
غیر تو کرتے رہے اُن کے آنگن کا طواف
اور ہم اغیار کی بس رمی کرتے رہے

0
79
ایسی مُسکان کہ کلیوں کی ادا ہو جیسے
اتنی دلکش ہے کہ اک برگِ حِنا ہو جیسے
ایسے بیٹھے ہیں وہ آنگن میں اکیلے سرِِ شام
چاند اپنے ہی ستاروں سے خفا ہو جیسے

0
82
یوسفِ دہر تمہیں اب بھی نظر آئے گا
تم زلیخا کی نظر سے اُسے ڈھونڈو تو سہی
سینکڑوں ہوں گے پل بھر میں خریدار پیدا
مصر سا تم کوئی بازار سجا لو تو سہی
انگلیاں آج بھی کٹ کٹ کے گریں گی جانا
اپنے رُخسار سے زُلفوں کو ہٹا دو تو سہی

69
دل بدل جاتے ہیں، دلدار بدل جاتے ہیں
وقتِ کے ساتھ غم گُسارِ بدل جاتے ہیں
مفلسی دیکھ کے کچھ یار بدل جاتے ہیں
یار ہی کیا، در و دیوار بدل جاتے ہیں
یہ ہے دنیا، اسے رہنا ہے رواں اور دواں
ہاں، مگر وقت کے معیار بدل جاتے ہیں

1
184
کردار کے غازی نہ ہی گفتار کے غازی
ہم لوگ فقط بن گئے اخبار کے غازی
بندوق کے ہیں اور نہ ہی تلوار کے غازی
میلوں کے ہیں ہم اور ہیں تہوار کے غازی
ڈالر کے ہوئے اور کبھی دینار کے غازی
فارغ ہیں فی الحال یہ بے کار کے غازی

84
تو حُسن کا محور ہے، تو حُسن کا پیمانہ
تو واسطے میرے ہے اک گوہرِ یک دانہ
مُسکانِ لبوں پر لا ، آنکھو کو نہ نیچے رکھ
صدقہ ترے ہونٹوں کا، نینوں کا ہو نذرانہ
تم شمعِ فروزاں ہو، تم شعلۂ آتش ہو
جل جائے گا بس یوں ہی بےکار میں پروانہ

4
240
دُرِ یکتاِ جہاں تو مثلِ کوہ نور ہے
دنیا ئے حُسن کا تو بس اک بحرِ نور ہے
مجھ کو تمہارے حُسن پہ اتنا غرور ہے
جتنا تمہاری چشم سیہ میں سرور ہے
ہم جس قدر قریب ہیں اتنے ہی دور ہیں
جیسے کہ روز و شب کا مسلسل فتور ہے

1
128
تیرے حُسنِ میں کھو کر پاگل
تیرے عشقِ میں ہو کر پاگل
تیرا ہی بس لیتا ہے نام
ہنستے ہنستے رو کر پاگل

0
156
تتلیاں پھر لوٹ آئی ہیں، بتا دینا اُسے
موسمِ گُل کی خبر پھر سے سُنا دینا اُسے
کونپلیں بھی پھوٹ آئی ہیں گُلِ بادام پر
پھول بھی کِھلنے لگے ہیں، تم جتا دینا اسے
چاندنی راتوں میں پریاں بھی اُترتی تھیں یہاں
ذکر تک ان کا نہیں اب تو ، بتا دینا اسے

2
154
چاند تاروں کی قسم پھول اور خوشبو کی قسم
نجد کے دشت و جبل اور رمِ آہو کی قسم
چاند سے بڑھ کے ہے روشن تو اے زُہرہ جبیں
سرو کی لالہ و گُل اور ترے گیسو کی قسم

0
123
سامنے جب تم کھڑے ہو یہ نظارے سب فضول
پھول و خوشبو مسترد ہیں، اور شرارے سب فضول
باغ میں دلدار نکلے جب ٹہلنے کے لئے
حور و غلمان اور پریاں استعارے سب فضول
سورہِ یوسف میں چرچا حُسن یوسف کی قسم
چاندنی میں جگمگاتے چاند تارے سب فضول

130
آنکھوں سے اپنی آگ لگا دو کبھی کبھی
باتوں سے اپنی پھول کھلا دو کبھی کبھی
منت بھی ہے سوال بھی اورالتجا بھی ہے
مسکانِ تم لبوں پہ سجھا دو کبھی کبھی
بیٹھے ہیں تیری راہ میں آنکھیں بچھا کے ہم
ہم سے ملا کے ہاتھ دبا دو کبھی کبھی

400
تم مجھے زہر لگتے تو اچھا تھا
تمہیں کھا کر ہلاک ہو جاتا
روز مرنے سے تو بہتر تھا
ایک ہی پل میں خاک ہو جاتا

0
1
192