ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔
جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا بیج ہوتا ہے، جو خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔
ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔
لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔
لفظوں کے ساتھ لہجہ اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔
جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔
جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔
کسی انسان کو جاننے کے لیے اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا یا اس کی کامیابیاں جاننا ضروری نہیں ہوتا۔بلکہ اس کے چند جملے اس کی شخصیت کا خلاصہ کر دیتے ہیں۔
الفاظ انسان کی تربیت، مطالعے، شعور اور باطنی کیفیات کا اظہار ہوتے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ ہم کس قسم کی صحبت میں رہے، کن خیالات کو جگہ دی، اور کن نظریات کو اپنایا۔
ہم اپنے چہرے کو مزین کرنے میں وقت لگاتے ہیں، مگر اپنی گفتگو کو سنوارنے پر کم توجہ دیتے ہیں، حالانکہ چہرہ چند لمحوں میں دھندلا جاتا ہے مگر الفاظ یادوں کے دریچوں میں دیر تک بیٹھے رہتے ہیں۔
الفاظ دوا و دعا بھی بن سکتے ہیں اور زخم بھی۔
ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑ سکتے ہیں اور محبت کے مضبوط رشتوں کو توڑ سکتے ہیں۔
ایک جملہ کسی کو محبت و حوصلہ دے کر قریب کر سکتا ہے، اور وہ ہی ایک جملہ لفظوں اور لہجے کے نامناسب استعمال سے کسی کو عمر بھر کے لیے متنفر ،خاموش اور دور بھی کر سکتا ہے۔
اس لیے بولنے سے پہلے رکنا اور تولنا کمزوری نہیں، شعور کی علامت ہے۔
سوچ کر بولنا مصنوعی ہونا نہیں، بلکہ باشعور ہونا ہے۔
اگر ہمیں اپنی گفتگو میں اپنائیت ،نرمی، وقار اور اثر پیدا کرنا ہے تو ہمیں اپنے ذہن کی غذا بدلنی ہوگی۔
* مثبت کتابیں پڑھیں
* اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں
* خود احتسابی کریں
* اور اپنے خیالات کا جائزہ لیتے رہیں
کیونکہ لفظوں کو بدلنے کی اصل جگہ لب نہیں، ذہن ہے۔
جب ذہن میں وسعت اور روشنی ہوگی تو الفاظ بھی موتیوں کی طرح چمکدار ہونگے۔دل میں صفائی ہوگی تو گفتگو میں بھی شائستگی ہوگی۔
یاد رکھیں گفتگو صرف آواز نہیں ہوتی۔
وہ ہماری شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے۔
جب ہم گفتگو کرتے ہیں تو دراصل ہم اپنے اندر کی دنیا، دنیا کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔
اس لیے اپنے ذہن کو پاکیزہ رکھیں، اپنی سوچ کو بلند رکھیں، اور اپنے لفظوں کو ذمہ داری سے برتیں۔کیونکہ کبھی کبھی انسان کو اس کے عمل سے پہلے اس کے لفظ پہچان دیتے ہیں۔
علی عمران
معلومات