| عِشق میں یہ کون دیکھے نُور ہے یا نَار ہے |
| عاشق و مَعشوق کا ایک ہی دَربار ہے |
| ایک حُسن و عِشق ہیں اور ایک ہی بُنیاد ہے |
| حُسن میں اِظہار ہے تو عِشق میں اَسرار ہے |
| عِشق میں اِک یار ہو، وہ یار ہی سَرکار ہو |
| عِشق کے مَیدان میں تَفریق سے اِنکار ہے |
| دو جہاں کا نُور میرے یار کا ظہور ہے |
| صُورتِ انسان بھی اُس یار کا اَوتار ہے |
| اَصل سب کی ایک ہے، وہ بَد ہے یا پھر نیک ہے |
| خَیر و شَر کے ہونے میں بھی، حَرفِ کُنْ درکار ہے |
| جس جگہ بھی شَمع ہو، پَروانہ اُس رُخ جائے گا |
| عاشقی میں قِبلہ وہ ہے جس جا کُوئے یار ہے |
| مُجھ میں میرا یار ہے وہ یار ہی دَرکار ہے |
| ایک ہَمْرا دائرہ اور ایک ہی پَرکار ہے |
معلومات