Circle Image

حیدر مرتضٰی

@haidermurtaza

Ghazal, Nazm, Salam

کس قدر جلد قیامت ترا آنا ہوگا
ان بہاروں میں اسے چھوڑ کے جانا ہوگا
ہم تو مر جائیں گے مرنا بھی کوئی مشکل ہے
ہاں مگر یاد رہے آپکو آنا ہو گا
ہے عجب بات کوئی آپ سا ہو سکتا ہے
ہاں مگر آپ کا ارشاد ہے مانا ہو گا

0
5
یہ نہ کہنا کہ اب تجھ کو آنا نہیں
شوق معراج پر ہے، بہانہ نہیں
دل تو دل ہے ذرا تیز بارش تو دیکھ
بادلوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں

0
6
ہو میسر جس کو بھی تیری طرف
دیکھ لے وہ آسماں اپنی طرف
رقص بارش خواب موسم اتفاق
کچھ تو لے آئے اسے میری طرف

0
9
زلف کب زلف ہے اور ابرو کہاں ہیں ابرو
دو کمانوں میں ہے چاند اس پہ کمانیں دو اور

0
6
پھول کو خار نے کیا اونچا
تخت کو دار نے کیا اونچا
سرو کو میرے قد سے کیا نسبت
مجھکو کردار نے کیا اونچا
میں پڑا تھا فنا کی چوکھٹ پر
جب ترے پیار نے کیا اونچا

0
19
دور جانے کے دن اب قریب آ گئے
زخم کھانے کے دن اب قریب آ گئے
گاہےگاہے کا ملنا بھی چھن جائے گا
دیکھ کر تجھ کو کھلنا بھی چھن جائے گا
میری غزلوں کی تاثیر مر جائے گی
روح نظموں کی پرواز کر جائے گی

0
21
درس بچپن سے ملا تھا یہ ابو طالب سے
تیر احمد پہ چلے سینے پہ کھائے حیدر
میرے اللہ فلسطین کو خیبر کر دے
درِ اقصٰی سے علم تھام کے آئے حیدر

1
16
انگریزی تو خوب آتی تھی
اسکی اردو سے جان جاتی تھی
گانا گانا تو کول لگتا تھا
شعر پڑھنا فضول لگتا تھا
پھر ہوا یوں کہ ایک ٹیچر نے
باتوں باتوں میں اسکو سمجھایا

0
6
وفا کے مقدس جریدے کا حیدر
وہ پہلا شمارہ جنابِ خدیجہ
سہارا بنے جو زمیں آسماں کا
تھیں انکا سہارا جنابِ خدیجہ

0
4
جب بھی لاہور سے ہجرت کا سوال آتا ہے
مجھکو رہ رہ کے فقط تیرا خیال آتا ہے
تیرے پہلو نے بچا رکھی ہے عزت اپنی
ورنہ خورشید پہ بھی وقتِ زوال آتا ہے
مصر والوں کو بتانا ہے حسیں کا مطلب
اب سرِ بزم مرا زہرہ جمال آتا ہے

0
16
تونے بنیاد رکھی شہرِ مسیحائی کی
قید بدلے میں ملی قید بھی تنہائی کی
معجزہ ہو گا کوئی کرتہِ یوسف کے طفیل
ہے زمانے کو ضرورت تری بینائی کی

0
9
کامیابی ہمارے قدم چوم لے
ہمکو بھیجا ہے مائوں نے سر چوم کر

0
15
رب کی مرضی یہ راج حیدر کا
رنگ کعبہ پہ آج حیدر کا
بولیں فضہ حبش کی شاہی کہاں
اور کہاں کام کاج حیدر کا
ڈر کے رہتی ہے خاک مرحب کی
دل کے خیبر پہ راج حیدر کا

0
14
جب سے ہم تیرے پرستار ہوئے ہیں
جو مخالف تھے طرفدار ہوئے ہیں
دن کسی طور جو کٹتے ہی نہیں تھے
تیرا ملنا تھا کہ تہوار ہوئے ہیں
رنگ بے رنگ ہوا کرتے تھے پہلے
اس نے پہنے ہیں تو شہکار ہوئے ہیں

0
20
اسکا کچھ ایسے دعا لینا مرے شعروں سے
اپنی تقریر سجا لینا مرے شعروں سے
پوچھتے کیوں ہو مکیں کون ہے میرے دل کا
اسکی تصویر بنا لینا مرے شعروں سے
تیرا ڈمپل تری آنکھیں ترے ابرو ترے ہونٹ
خود کو آئینہ دکھا لینا مرے شعروں سے

0
19
بجھتی آنکھوں میں وہ تصویر اتارا کرنا
مجھکو معلوم ہے پتھر کو ستارا کرنا
دھوپ یہ دھوپ جلا دے نہ تمنا کے گلاب
اے پری رخ ذرا بادل کو اشارا کرنا
میرا مقصود ہے جنت میں فقط اتنا شرف
تیرے پہلو میں شب وروز گزارا کرنا

0
16
مانا کہ ہو بہو ہے کوئی فرق بھی نہیں
لیکن جو بات تجھ میں ہے تصویر میں کہاں
اس نے گرائے بال تو جو معجزہ ہوا
قدرت کی آبشاروں کی تقدیر میں کہاں
ہوگی کہاں بیان ترے لب کی نازکی
حتی کہ شعر میر تقی میر میں کہاں

0
11
بند دریا کو اسی کوزے میں کر لیتا ہوں
جب بھی ملتا ہے اسے آنکھ میں بھر لیتا ہوں
سامنا ہوتا نہیں بات بھی کر لیتا ہوں
عین پت جھڑ میں بہاروں کا اثر لیتا ہوں
جو چرا لائی ہیں خوشبو ئیں بدن کی اسکے
ایسی گستاخ ہوائوں کی خبر لیتا ہوں

0
24
کوئی فردوس بھی گر تیرے مقابل رکھ دے
مجھکو معلوم ہے میں تیری طرف آئوں گا
اس پری زاد کے ہاتھوں میں ہیں باگیں میری
وہ بتائے گا کہ میں کسکی طرف آئوں گا
پھول لائیں گے سبھی سالگرہ پر اسکی
جاں ہتھیلی پہ لیے اسکی طرف آئوں گا

1
27
زخم پہ زخم سجا لگتا ہے
عشق مرا سچا لگتا ہے
آنکھ سے اوجھل ہو جائے تو
جان سے جسم جدا لگتا ہے
تجھ کو دیکھ کے گل کھلتے ہیں
نام بہاروں کا لگتا ہے

0
19
آنکھ سے دوری کیسی دوری ہے
یہ جدائی فقط عبوری ہے
ایک لمحے کو مجھ سے بات کرو
ایک تازہ غزل ادھوری ہے
اس سے کہنی ہیں ان کہی باتیں
شعر کہنا بہت ضروری ہے

0
19
وقت جیسے تھم گیا ہے اسکے گھر جانے کے بعد
سیڑھیاں خاموش ہیں اسکے اتر جانے کے بعد
زخم سارے بھر گئے تھے اس نے جیسے ہی کہا
اچھا دیکھو پھر ملیں گے زخم بھر جانے کے بعد
چال جن کی شاعری میں ہے امر وہ ہرنیاں
رقص میں رہتی ہیں تجھکو دیکھ کر جانے کے بعد

0
22
تمہارے بھول جانے کی جسارت ہو نہیں سکتی
محبت بس محبت ہے تجارت ہو نہیں سکتی
یہاں دستور ٹھہرا ہے مسلسل سنگ باری کا
یہاں تعمیر شیشے کی عمارت ہو نہیں سکتی
جلا ہے حسرتوں کا گھر کسی دشمن کی سازش سے
کسی معصوم بچے کی شرارت ہو نہیں سکتی

1
65
سبز گنبد کے مکیں تک آ گیا
آسماں دیکھو زمیں تک آ گیا
چاند چھپ جائے گا آقا جب کبھی
آپ کے نورِ جبیں تک آ گیا
رک گئے سدرہ پہ جبریلِ امیں
اور وہ پردہ نشیں تک آ گیا

2
31