Circle Image

Mustafa Sajjad Haider

@msh

محفلِ دِل سجا ئے بیٹھا ہُوں
ظُلمت شب مِٹائے بیٹھا ہُوں
اُن کے آنے کی پھِر خبر آئی
بوریا پھِر سے لا ئے بیٹھا ہوُں
ڈھُونڈ تا ہوں اُسی کو ہر جانب
ہر سوُ ہر سمت جا ئے بیٹھا ہوُں

0
ان کی حکمت پہ جائیں واری ہم
خلقت آتی ہے پوجنے در پر
صدقے ان کی گریز پائی کے
ہم بھی پتھر کے ہو گئے حیدر

0
28
صدقے انکی گریز پائی کے
ہم تو پتھر کے ہو گئے حیدر

0
20
صبحِ رنگیں تو آ چُکی ہے مگر
دِل کے آنگں میں کیوُں نہیں بُلبُل
زخم کیسے دِکھائیں ہم اپنے
وقت کی چاپ کون سُن پایا
روز ہی مون سون آنکھوں میں
طرزِ طوفاں مزاج رہتا ہے

0
37
خیرہ ہو جاتی ہیں نگاہیں جب
پیار آتا ہے چاند سی کے لیئے

0
16
چاہیے بندگی خودی کے لئے
سر کروں خم مگر اسی کے لیئے
ایک سورج مگر ہیں کرنیں ہزار
ہے تو واحد مگر سبھی کے لیئے
حسن تو قابلِ ستائش ہے
رب کا مشہود زندگی کے لیئے

0
27
تھوڑی غفلت شعار ہے اپنا
پر حقیقت معیار ہے اپنا
ہے عیادت ثواب مل جائو
کس قدر انتظار ہے اپنا
کچھ لکھا کچھ پڑھا کہا یا سنا
بس یہی کاروبار ہے اپنا

0
20
کھیل ہی کھیل میں بتا جانا
تیرا انداز دِل کو بھا جانا
دِلرُبا اور کِس کو کہتے ہیں
دِلکش و دِلنشیں ہیں جاناناں
رت جگے، اِضطراب، رہ تکنا
یہ عنایات اُن کا فرمانا

0
25
ان کی اپنی دکان کیا کہنے
وہ ہیں اب سیٹھ و خان کیا کہنے
بے تکلف ہُوے وہ آپس میں
ادھر آ اوئے خان کیا کہنے
تھا نہ لائق میں کہنے سُننے کے
دھرتے ہیں پھِر بھی کان کیا کہنے

0
30
اِک ڈاہڈی سوہنی کُڑی (آزاد پنجابی نظم) از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
کل مینوُں بہت ای چنگا لگا
سوہنی تے سُلکھی وی سی
ٹردی پھِردی دِل موہ لیندی
ہس ہس کے اوہ گلاں کردی
لِخ پڑھ کے کُرسی تے بیٹھی

0
73
بے خودی مٰیں کمال رکھتا ہوُں
لاجواب اک سوال رکھتا ہوُں
نہ مجھے روک مے کشی سے یار
پی کے تیرا خیال رکھتا ہوں
ہو گئی جب سے دوستی تجھ سے
عالمِ بے مثال رکھتا ہوُں

0
36
ایک غزل (29 مارچ 2024) کُچھ ترمیم و اِضافہ کے ساتھ۔ از: مُصطفےٰ سجاد حیدر،
حرصِ زر نے آدمی کو ہے نچایا بار ہا
رہ گیا دُنیا میں آخِر جو کمایا بار ہا
آدمی نے آدمی کو ہے گرایا بار ہا
چاہِ یوُسف نے ہمیں قصہ سنایا با ر ہا
بے ثباتی ہے یہ دُنیا دل کو بھی بھاتی بہت

0
22
ایک رُباعی (7 اپریل 2024) از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
میرے اندر کشمکش اپنے ہی سازوں سے بھی ہے
دوستی رندوں سے بھی اور پاک بازوں سے بھی ہے
اتنا بھی ظالِم نہیں حیدر کہ بھُولے یار کو
عید پر مِلنا ہمیں تو چالبازوں سے بھی ہے

0
38
ایک غزل
وہ قاصد کو دیویں بیاں کیسے کیسے !!
لگیں دِل پہ یاں برچھیاں کیسے کیسے
نہاءو تو کپڑے پہن کر نہاءو !!!!!!!
مِلےہم کو کُچھ مُفتیاں کیسے کیسے
میں ڈرتا ہوُں اُن سے نہیں بات کرتا

0
174
کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ لئے
کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ.....
وہ بھی تجھ پہ پل پڑے
تو بھی ان پہ پل پڑا.....
مجھ پہ بھی وہ پل پڑے
میں بھی ان پہ پل پڑا....

0
18
مے میسر نہیں اب شام سے مے خانوں میں
پھرتے ہیں رِند لیئے اشک ہی پیمانوں میں
ہم اسی لے میں ہیں رقصاں گو زمانے بیتے
ساز سب ٹوٹ چکے گونج ہےبس کانوںمیں
میں نے کھا لی تھی قسم رہنے کی مدہوش کبھی
تیری آواز کا رس ایسا گھُلا کانوں میں !!!!!!!!

0
38
حرصِ زر نے آدمی کو ہے نچایا بار ہا
رہ گیا دُنیا میں آخِر جو کمایا بار ہا
بے ثباتی ہے یہ دُنیا دل کو پر بھاتی بہت
دِل گو ہم نے گو لگایا اور ہٹایا بار ہا !!!!!!!
وقت اُس کا قیمتی ہے اس سے اندازہ کرو
جا کے وہ واپس نہ آیا اور رُلایا بار ہا!!!!

0
25