Circle Image

Mustafa Sajjad Haider

@msh

پھوُل بننے سے ہمیشہ توُ گُریزاں ہو جا
اِک پرندے کی طرح محوِ گُلِستاں ہو جا
پر نئے آنے دے پرواز ہو تاکہ دِلکش
اِک نیا توُ بھی زمانے میں دبستاں ہو جا
ظُلمتوں سے تو کِنارا ہی ہے بہتر حیدر
بن کے شُعلہ توُ بھی سوُرج سا درخشاں ہو جا

0
2
روٹی اور جِنس
ایک نظم:
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
تختہء مشق پر کھڑے ہو کر
حل تو کر لیں ہیں چند مساواتیں
روٹی اور جِنس کا مگر مسئلہ

0
8
ایک غزل: 25 اگست 2026
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
رس تِرا چوُس کے بھنورا تو چلا جائے گا
پیارے سے گُل توُ کھڑا سوچتا رہ جائے گا
منجمِد گُل ہے مگر بھنورا ہے اُڑتا پھِرتا
رس کو گُل کیسے بچائے نہ سمجھ پائے گا

0
6
جلوہ دِکھلا کے سراپائی کا
دے گیا پھِر وہ پتہ بھائی کا
کون جانے بنے گا کل کیا کیا
سیکھا ہے فن وہ گُل کِھلائی کا
کُشتوں کے پُشتے وہ نہیں جانے
اُس کو بس شوق مُسکرائی کا

0
10
ایک غزل: 22 اگست 2026
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
مر ض پکڑا گیا آخِر کِسی سودائی کا
اِس کو ہے یاد تماشا کِسی اَنگڑائی کا
قید میں کیوُں ہوُں، خطا کیا ہے، بتاؤ میری؟
لے کے پھِرتا ہے توُ جھنڈا کِسی سچائی کا

0
3
ایک غزل: 17 اگست 2026
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
تھا ڈھنڈھورا جو پارسائی کا
نکلا سامان جگ ہنسائی کا
دعویٰ یہ تھا کہ ہم فرشتے ہیں
کھُل گیا بھید آشنائی کا

0
6
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
چل گیا کیسے حسیناؤں سے چکر اَپنا
سوچتا پہروں ہوں سر گھُٹنوں پہ رکھ کر اَپنا
نہ ضرورت تھی کسی توپ کی تلوار کی بھی
کئی افواج پہ تھا بھاری یہ دلبر اپنا
نغمہ گر سوچ لے دھُن میری کہانی سُن کر

0
10
لمحات گُزریں قُرب میں; دِن کے یا رات کے
اَسرار کھُلنے لگتے ہیں سب کائنات کے
شارح دُکاں پہ تیری ہیں جو آتے سب کے سب
بِکتا نہیں ہے مال بنا اِلتفات کے
تو حید بھی ہے اور ہے بُتوں سے بھی دِل لگی
ڈھونڈھوں میں ہر طرف سے حوالے نجات کے

0
7
ایک غزل
اَز: مُصطفےٰ سجاد حیدر
کان دھرنا میرا نہ بھائے کیوُں؟
دِل کی باتیں نہ وہ بتائے کیوُں؟
سب مُسافِر ہیں، جانتے ہیں تو
رہ گُزاروں پہ گھر بنائے کیوُں؟

0
8
محفلِ دِل سجا ئے بیٹھا ہُوں
ظُلمت شب مِٹائے بیٹھا ہُوں
اُن کے آنے کی پھِر خبر آئی
بوریا پھِر سے لا ئے بیٹھا ہوُں
ڈھُونڈ تا ہوں اُسی کو ہر جانب
ہر سوُ ہر سمت جا ئے بیٹھا ہوُں

0
12
ان کی حکمت پہ جائیں واری ہم
خلقت آتی ہے پوجنے در پر
صدقے ان کی گریز پائی کے
ہم بھی پتھر کے ہو گئے حیدر

0
32
صدقے انکی گریز پائی کے
ہم تو پتھر کے ہو گئے حیدر

0
34
صبحِ رنگیں تو آ چُکی ہے مگر
دِل کے آنگں میں کیوُں نہیں بُلبُل
زخم کیسے دِکھائیں ہم اپنے
وقت کی چاپ کون سُن پایا
روز ہی مون سون آنکھوں میں
طرزِ طوفاں مزاج رہتا ہے

0
43
خیرہ ہو جاتی ہیں نگاہیں جب
پیار آتا ہے چاند سی کے لیئے

0
22
چاہیے بندگی خودی کے لئے
سر کروں خم مگر اسی کے لیئے
ایک سورج مگر ہیں کرنیں ہزار
ہے تو واحد مگر سبھی کے لیئے
حسن تو قابلِ ستائش ہے
رب کا مشہود زندگی کے لیئے

0
37
تھوڑی غفلت شعار ہے اپنا
پر حقیقت معیار ہے اپنا
ہے عیادت ثواب مل جائو
کس قدر انتظار ہے اپنا
کچھ لکھا کچھ پڑھا کہا یا سنا
بس یہی کاروبار ہے اپنا

0
24
کھیل ہی کھیل میں بتا جانا
تیرا انداز دِل کو بھا جانا
دِلرُبا اور کِس کو کہتے ہیں
دِلکش و دِلنشیں ہیں جاناناں
رت جگے، اِضطراب، رہ تکنا
یہ عنایات اُن کا فرمانا

0
29
ان کی اپنی دکان کیا کہنے
وہ ہیں اب سیٹھ و خان کیا کہنے
بے تکلف ہُوے وہ آپس میں
ادھر آ اوئے خان کیا کہنے
تھا نہ لائق میں کہنے سُننے کے
دھرتے ہیں پھِر بھی کان کیا کہنے

0
34
اِک ڈاہڈی سوہنی کُڑی (آزاد پنجابی نظم) از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
کل مینوُں بہت ای چنگا لگا
سوہنی تے سُلکھی وی سی
ٹردی پھِردی دِل موہ لیندی
ہس ہس کے اوہ گلاں کردی
لِخ پڑھ کے کُرسی تے بیٹھی

0
78
بے خودی مٰیں کمال رکھتا ہوُں
لاجواب اک سوال رکھتا ہوُں
نہ مجھے روک مے کشی سے یار
پی کے تیرا خیال رکھتا ہوں
ہو گئی جب سے دوستی تجھ سے
عالمِ بے مثال رکھتا ہوُں

0
45
ایک غزل (29 مارچ 2024) کُچھ ترمیم و اِضافہ کے ساتھ۔ از: مُصطفےٰ سجاد حیدر،
حرصِ زر نے آدمی کو ہے نچایا بار ہا
رہ گیا دُنیا میں آخِر جو کمایا بار ہا
آدمی نے آدمی کو ہے گرایا بار ہا
چاہِ یوُسف نے ہمیں قصہ سنایا با ر ہا
بے ثباتی ہے یہ دُنیا دل کو بھی بھاتی بہت

0
30
ایک رُباعی (7 اپریل 2024) از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
میرے اندر کشمکش اپنے ہی سازوں سے بھی ہے
دوستی رندوں سے بھی اور پاک بازوں سے بھی ہے
اتنا بھی ظالِم نہیں حیدر کہ بھُولے یار کو
عید پر مِلنا ہمیں تو چالبازوں سے بھی ہے

0
46
ایک غزل
وہ قاصد کو دیویں بیاں کیسے کیسے !!
لگیں دِل پہ یاں برچھیاں کیسے کیسے
نہاءو تو کپڑے پہن کر نہاءو !!!!!!!
مِلےہم کو کُچھ مُفتیاں کیسے کیسے
میں ڈرتا ہوُں اُن سے نہیں بات کرتا

0
185
کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ لئے
کہانیوں کے لٹھ لئے، کہانیوں کے لٹھ.....
وہ بھی تجھ پہ پل پڑے
تو بھی ان پہ پل پڑا.....
مجھ پہ بھی وہ پل پڑے
میں بھی ان پہ پل پڑا....

0
27
مے میسر نہیں اب شام سے مے خانوں میں
پھرتے ہیں رِند لیئے اشک ہی پیمانوں میں
ہم اسی لے میں ہیں رقصاں گو زمانے بیتے
ساز سب ٹوٹ چکے گونج ہےبس کانوںمیں
میں نے کھا لی تھی قسم رہنے کی مدہوش کبھی
تیری آواز کا رس ایسا گھُلا کانوں میں !!!!!!!!

0
44
حرصِ زر نے آدمی کو ہے نچایا بار ہا
رہ گیا دُنیا میں آخِر جو کمایا بار ہا
بے ثباتی ہے یہ دُنیا دل کو پر بھاتی بہت
دِل گو ہم نے گو لگایا اور ہٹایا بار ہا !!!!!!!
وقت اُس کا قیمتی ہے اس سے اندازہ کرو
جا کے وہ واپس نہ آیا اور رُلایا بار ہا!!!!

0
32