| ایک غزل (29 مارچ 2024) کُچھ ترمیم و اِضافہ کے ساتھ۔ از: مُصطفےٰ سجاد حیدر،
|
| حرصِ زر نے آدمی کو ہے نچایا بار ہا
|
| رہ گیا دُنیا میں آخِر جو کمایا بار ہا
|
| آدمی نے آدمی کو ہے گرایا بار ہا
|
| چاہِ یوُسف نے ہمیں قصہ سنایا با ر ہا
|
| بے ثباتی ہے یہ دُنیا دل کو بھی بھاتی بہت
|
|
|