| لمحات گُزریں قُرب میں; دِن کے یا رات کے |
| اَسرار کھُلنے لگتے ہیں سب کائنات کے |
| شارح دُکاں پہ تیری ہیں جو آتے سب کے سب |
| بِکتا نہیں ہے مال بنا اِلتفات کے |
| تو حید بھی ہے اور ہے بُتوں سے بھی دِل لگی |
| ڈھونڈھوں میں ہر طرف سے حوالے نجات کے |
| حیدر نہ کیوُں کرے کسی بُت کی پرستشیں |
| چرچے فِضا میں اب بھی ہیں لات و منات کے |
معلومات