| حرصِ زر نے آدمی کو ہے نچایا بار ہا |
| رہ گیا دُنیا میں آخِر جو کمایا بار ہا |
| بے ثباتی ہے یہ دُنیا دل کو پر بھاتی بہت |
| دِل گو ہم نے گو لگایا اور ہٹایا بار ہا !!!!!!! |
| وقت اُس کا قیمتی ہے اس سے اندازہ کرو |
| جا کے وہ واپس نہ آیا اور رُلایا بار ہا!!!! |
| دل دیا ہے وہ بھی تُجھ کو، یہ میرا احسان ہے |
| دے کے مُجھ کو یہ بیاں اُس نے جتایا بارہا!!! |
| روؤں یا چلاؤں یا سر مار دوُں دیوار میں |
| وہ تو بس ہنس دیتے ہیں گو آزمایا بار ہا!! |
| لڑ پڑا انگوُر مجھ سے گھوُنٹ اِک جو پی لیا |
| بولا ہے بیٹی مری تو نے ستایا بار ہا!!!!! |
| تُم تو کہتے تھے کہ دو گے دل سمجھ کر سوچ کر |
| دُخترِ انگوُر نے تُجھ کو گھمایا بار ہا!!!!!! |
| روُٹھا ہے حیدر اگر تو فِکر کی کیا بات ہے |
| چٹکیوں میں اُس کو ہم نے ہے منایا بار ہا |
معلومات