| تھوڑی غفلت شعار ہے اپنا |
| پر حقیقت معیار ہے اپنا |
| ہے عیادت ثواب مل جائو |
| کس قدر انتظار ہے اپنا |
| کچھ لکھا کچھ پڑھا کہا یا سنا |
| بس یہی کاروبار ہے اپنا |
| مے کی فِطرت میں تھوڑی بے باکی |
| حق ہے اس کو خمار ہے اپنا |
| وہ تبسم جو گل کھلا جائے |
| اس پہ سب کچھ نثار ہے اپنا |
| دوستی کر ہمارا بندہ ہے |
| رندِ سجدہ گزار ہے اپنا |
| جس سے اک بار کچھ تعلق ہو |
| پھر نہ بھولوں وہ یار ہے اپنا |
| تیرے اندازے، کیا کہیں حیدر |
| ان کو سمجھا ہے پیار ہے اپنا |
معلومات