ایک غزل
وہ قاصد کو دیویں بیاں کیسے کیسے !!
لگیں دِل پہ یاں برچھیاں کیسے کیسے
نہاءو تو کپڑے پہن کر نہاءو !!!!!!!
مِلےہم کو کُچھ مُفتیاں کیسے کیسے
میں ڈرتا ہوُں اُن سے نہیں بات کرتا
نِکالے ہیں وہ کَس بلاں کیسے کیسے
چُڑیلیں، بلاءیں، پچھل پیریاں کُچھ !!!!!!
یہ سب ہو گءیں اَپنیاں کیسے؟ کیسے؟
غنیمت ہے ساءنس کرا دیوے درشن
سمُندر تھے اَب درمیاں کیسے کیسے
جلی گھاس، اور پھوُل مُرجھا چُکے ہیں
ہمارے بھی ہیں باغباں کیسے کیسے !!!
یہ دولت کے چارے، محبت کی ڈوریں
وہ پکڑے ہیں اَب مچھلیاں کیسے کیسے
کبھی بام و در سے کبھی چلمنوں سے
گِراویں حسیں بِجلیاں کیسےکیسے !!!!
وہ سُنتے نہیں گر، تو ہے دوش کِس کا؟!
کہ چیخے تو تھے غمزداں کیسے کیسے
کِدھر ہیں وہ مُطرِب، کہاں ہیں مُغنی
سُناتے تھے ہم داستاں کیسے کیسے
کہیں پر تحرُک، کہیں پر سکوُں ہے
ہیں اَسرارِ شعری نہاں کیسے کیسے
اَ بھی اِس گلی میں اَبھی اُس محلے
طبیعت ہُوئی ہے رواں کیسے کیسے
خبردار حیدر رہو تو ہے بہتر!!!!!!!!
مِلے ہیں تُجھے عاشقاں کیسے کیسے

0
174