| از: مُصطفےٰ سجاد حیدر |
| چل گیا کیسے حسیناؤں سے چکر اَپنا |
| سوچتا پہروں ہوں سر گھُٹنوں پہ رکھ کر اَپنا |
| نہ ضرورت تھی کسی توپ کی تلوار کی بھی |
| کئی افواج پہ تھا بھاری یہ دلبر اپنا |
| نغمہ گر سوچ لے دھُن میری کہانی سُن کر |
| دِل پہ رکھنے کو ذرا ڈھونڈھ لوُں پتھر اَپنا |
| کِس طرف جاؤں تو مِل جائے گا یہ سوچتا ہوُں |
| کیا کبھی تھا بھی کہیں، یاد نہیں، گھر اَپنا |
| کیسا دِکھتا تھا نہیں یاد مگر گھر اپنا |
| دوش قسمت کو ملے گا یا مری سوچوں کو |
| زائچہ سامنے رکھ، دیکھے ہے، حیدر اپنا |
معلومات