ایک غزل: 22 اگست 2026
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
مر ض پکڑا گیا آخِر کِسی سودائی کا
اِس کو ہے یاد تماشا کِسی اَنگڑائی کا
قید میں کیوُں ہوُں، خطا کیا ہے، بتاؤ میری؟
لے کے پھِرتا ہے توُ جھنڈا کِسی سچائی کا

0
2