چاہیے بندگی خودی کے لئے
سر کروں خم مگر اسی کے لیئے
ایک سورج مگر ہیں کرنیں ہزار
ہے تو واحد مگر سبھی کے لیئے
حسن تو قابلِ ستائش ہے
رب کا مشہود زندگی کے لیئے
فکرِ جاں، فکرِ جہاں اور پھِرعشق
اف یہ تقسیم زندگی کے لیئے
کاش یہ دِل قرار پا جائے
اس کی دھڑکن ہو بس اسی کے لیئے
اے خدا رحم کر تو حیدر پر
شعر لکھتا ہے پھر کسی کے لیئے

0
27