ایک غزل: 25 اگست 2026
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
رس تِرا چوُس کے بھنورا تو چلا جائے گا
پیارے سے گُل توُ کھڑا سوچتا رہ جائے گا
منجمِد گُل ہے مگر بھنورا ہے اُڑتا پھِرتا
رس کو گُل کیسے بچائے نہ سمجھ پائے گا
میں، چمن، گُل بھی ہے، بُلبُل بھی ہے، کوئل، قُمری
سوچیں؛ سیلابِ بلا اَب کے کِدھر جائے گا
ہے رکھا کیا بھلا تدبیر میں تقدیر پہ رکھ
ناں بنا تخت اگر، تختہ تو ہو جائے گا
کتنی رنگین بنا لیتے ہو حیدر تصویر
جان اَگر آئی، ہر اِک دوستی کو آئے گا

0