ایک غزل
اَز: مُصطفےٰ سجاد حیدر
کان دھرنا میرا نہ بھائے کیوُں
دِل کی باتیں نہ وہ بتائے کیوُں؟
سب مُسافِر ہیں، جانتے ہیں تو
رہ گُزاروں پہ گھر بنائے کیوُں؟
یہ محبت بھی اِک ضرورت تھی
جان کر بھی فریب کھائے کیوُں؟
زندگی مرحلوں سے گُزرے ہے
کَل کیا ہو گا، سمجھ میں آئے کیوُں؟
رنگ نئے روز اور نئے نِت روُپ
دُنیا آخِر ہمیں نہ بھائے کیوُں؟
اُس کی مُسکان میں توانائی
حادثے دِل نہ پھِر بھُلائے کیوُں؟
جب کہ میں تو تھا بس ضرورت سی
پیار کے ڈھونگ پھِر رچائے لیوُں
رات کالی تھی کاٹ لی حیدر
صُبحِ روشن نہ مُکھ دِکھائے کیوں؟

0
2