| محفلِ دِل سجا ئے بیٹھا ہُوں |
| ظُلمت شب مِٹائے بیٹھا ہُوں |
| اُن کے آنے کی پھِر خبر آئی |
| بوریا پھِر سے لا ئے بیٹھا ہوُں |
| ڈھُونڈ تا ہوں اُسی کو ہر جانب |
| ہر سوُ ہر سمت جا ئے بیٹھا ہوُں |
| کیسے بتلاؤں کہ ہوا یہ کب؟ |
| سب زمانے بُھلا ئے بیٹھا ہوُں |
| آنکھیں ہِرنی سی، بانہیں صندل کی |
| غزلیں اُن کو سُنا ئے بیٹھا ہوُں |
| وصل کی شب کے اِنتظار میں میں |
| آگ دِل میں لگائے بیٹھا ہوُں |
| شاکی نظروں نے کر دیا گھائل |
| شُدھ بُدھ اَپنی گُمائے نیٹھا ہوُں |
| کِس سے کِس کا پتہ بھلا پوُچھوُں |
| صدیوں آگے میں آئے بیٹھا ہوُں |
| یاد پھِر تیری آ گئی مُجھ کو |
| خُود کو پھِر سے رُلائے بیٹھا ہوُں |
| خواب اَکثر میں دیکھتا ہوں کہ |
| اُن کے دِل میں سمائے بیٹھا ہوُں |
| اِک جھلک دیکھ لی ہے پھِر اُن کی |
| اِک غزل پھِر بنائے بیٹھا ہوُں |
| غور سے دیکھ کے ہیں وہ گُزرے |
| آس سی میں لگائے بیٹھا ہوُں |
| کِس سے کِس کا پتہ بھلا پوُچھوُں |
| صدیوں آگے میں آئے بیٹھا ہوُں |
| تھا کبھی خوُد پہ ناز بھی حیدر |
| اَب تو سر کو گِرا ئے بیٹھا ہوُں |
معلومات