| ایک غزل: 17 اگست 2026 |
| از: مُصطفےٰ سجاد حیدر |
| تھا ڈھنڈھورا جو پارسائی کا |
| نکلا سامان جگ ہنسائی کا |
| دعویٰ یہ تھا کہ ہم فرشتے ہیں |
| کھُل گیا بھید آشنائی کا |
| جب بھی آئے وہ بام پر، رِم جھِم |
| صدقہ دیتی ہے مُکھ دِکھائی کا |
| دوراَب کیسے جا سکے گا وہ |
| جادوُ اُس پہ بھی روُنمائی کا |
| کیا سُناتا کِسی کو اور کیوُنکر |
| ایک قِصہ تھا بے وفائی کا |
| بس گیا دِل میں جو تِرے حیدر |
| تھا کمال اس کی دلرُبائی کا |
معلومات