Circle Image

احمد رضا گلؔ

@arg

کاغذ پر دل کی آواز

عشق سرکارِ دو عالم کا جلا قندیل ہے
کیا بجھائے حق کا منکر تو حسد تمثیل ہے
زندگی کا اپنی مقصد ہو فقط عشقِ نبی ﷺ
گر نہیں عشقِ محمد ﷺ زندگی تذلیل ہے
وہ مکیں ہیں لامکاں کے، کون ہو ان کی طرح
اور جن کے در کا درباں حضرتِ جبریل ہے

16
168
شہید تم ہو شہید اعظم، سلام تم کو شہید اعظم
امام تم ہو امام اعظم، سلام تم کو شہید اعظم
وفا پرستی بتایا تم نے نبی کی ہستی بتایا تم نے
خدا پرستی سکھایا تم نے، سلام تم کو شہید اعظم
نبی کے دلبر ہمارے مولا علی کے جانی امام و مولا
حسن کے بھائی حسین مولا، سلام تم کو شہید اعظم

0
3
مرا دل جھوم جاتا ہے تمہاری یاد جب آئے
دہن نعتیں سناتا ہے تمہاری یاد جب آئے
تمہیں ہو راحتِ قلب و جگر، آرامِ تن و جاں
شفا ہر غم سے پاتا ہے تمہاری یاد جب آئے
شبِ اسریٰ کہا جبرئیل نے محبوبِ داور سے
خدا تم کو بلاتا ہے تمہاری یاد جب آئے

0
3
ہم ترے دل سے بہت دور چلے جائیں گے
تجھ سے وعدہ ہے نظر تجھ کو نہیں آئیں گے
منتیں کرنا نہ تو میرے پلٹ آنے کی
زہر کھا لیں گے مگر لوٹ نہیں آئیں گے
در گزر کر دے مجھے اپنا سمجھنے کے لیے
غیر ہوں کیسے مجھے اپنا بنا پائیں گے

0
18
امت نے پکارا آئی لبھ یو محمد ﷺ
سرکار ہمارا آئی لبھ یو محمد ﷺ
.
آیا نہ کوئی جگ میں سرکار کے جیسا
ہر آنکھ کا تارا آئی لبھ یو محمد ﷺ
.

0
60
مچی دھوم ہر سو ہے ان کی ولادت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی
فضا خوشنما اور ہے ہر سو مسرت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی
حلیمہ! ہے قسمت تمہاری نرالی، ترے گود میں ہے دو عالم کا والی
مٹانے ترے سر سے فقر اور غربت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی
ہوئی بااعانت وہ لاغر سواری، کئی دن کی منزل پہر میں سِدھاری
طبیبِ دو عالم وہ جامع کرامت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی

0
28
مومنوں مل کر نعرہ لگاؤ سرکارِ دو عالم آ گئے
جھومو جھومو نعتیں سناؤ سرکارِ دو عالم آ گئے
آئی آئی باد بحالی دور ہوئی جگ سے بدحالی
خوشیوں کے سوغات سناؤ سرکارِ دو عالم آ گئے
کعبہ کے بت ماتم کرتے اک دوجے سے کہتے تھے یہ
گر گر کر سب کلمہ سناؤ سرکارِ دو عالم آ گئے

0
37
قلم سے اپنی لکھتا ہوں شہِ ابرار کی باتیں
نہیں ہے زیب مجھ کو دلبر و دلدار کی باتیں
۰
مبارک ہو تمہیں یہ چاپلوسی کرنے کی عادت
میں شیداۓ محمدﷺ لکھتا ہوں سرکار کی باتیں

0
34
وہ دل میں اپنی چاہت بسا کے چھوڑ گئے
نظر کو اپنی عادت لگا کے چھوڑ گئے
.
بغیر ان کے جو دشوار ہو گیا جینا
مجھے مریضِ محبت بنا کے چھوڑ گئے

0
28
شوق دل کا مٹا دیا جاۓ
اب تو اس کو بھلا دیا جاۓ
دل پہ دستک اگرچہ دے کوئی
اس کو چہرہ دکھا دیا جاۓ
ڈر گیا گر وہ تیری ہیبت سے
یہ اجالا بجھا دیا جاۓ

0
66
اس کی نگاہِ شوق سے رغبت نہ ہو کہیں
ڈرتا ہوں میری بات سے دقت نہ ہو کہیں
اتنا جو بے رخی ہے مرے دل سے اہلِ دل
دل کو تمہاری یاد سے نفرت نہ ہو کہیں

0
42
قسم ہے کسی سے رفاقت نہ کرنا
ہوس کے جہاں میں قرابت نہ کرنا
قدم ہر قدم پر وفا کے ہیں پھندے
سنبھل کر ہی رہنا محبت نہ کرنا

0
49
کون دل میں جگہ دیتا ہے بشر
خشک پتے گرا دیتا ہے شجر
دل جو بھر جاتا ہے گلؔ عالم کا
ایک پل میں بھلا دیتا ہے بشر

0
45
ان آنکھوں کو الفت کا اُپہار میں تجھ کو دے دوں
ہو الفت تجھ سے اتنی کہ پیار میں تجھ کو دے دوں
جب بھی میں سانسیں لوں سامنے ہو صورت تیری
من کرتا ہے اپنا سب سنسار میں تجھ کو دے دوں

0
75
غم کے ماروں کو مژدہ سنائیں گے آقا
ہم سے عاصی کو در پہ بلائیں گے آقا
نفسی نفسی کا عالم اور دہشت کا دن
ربی حبل امتي کہتے آئیں گے آقا
گرمئ محشر سے جو یہ بھڑکے گا بدن
اپنے دامن میں ہم کو چھپائیں گے آقا

0
52
رضأ الٰہی میں دن جو گزرے وہ دن بے مثل و مثال ہوگا
ستم کی ہر گھونٹ پی کے بولے تو ایسا بندہ بلال ہوگا
.
تمہاری پوجا کروں کیوں آخر اے بت کدوں کے حسین پتھر
تمہاری صورت سے بڑھ کے بہتر خدا کا حسن و جمال ہوگا

0
40
قوم کے اک رہنما کو کھو دیا
آج اس شیرِ وفا کو کھو دیا
.
قوم و ملت کے لیے تھا آبرو
ہم نے اب حق کی صدا کو کھو دیا
.

0
45
لے کر قلم یوں عشق کا اظہار کیجئے
نعتِ نبی کی دھن ملی اشعار کیجیے
.
دل کو نبی کے عشق سے سرشار کیجیے
من کو نبی کے نور سے انوار کیجیے
.

0
61
نبیوں کے بعد افضل رتبہ ابو بکرؓ کا
قرآن میں ہے نازل کلمہ ابو بکرؓ کا
اس پر نثار تم ہو جس پر نثار دنیا
کیسے کوئی بھلا ہو اعداء ابو بکرؓ کا
رخ میں نبیﷺ کے اپنا جلوہ ہی دیکھتے ہیں
صدق و صفا کا گوہر چہرہ ابو بکرؓ کا

57
دہر فانی سے مر کے جائیں گے
حسب معمول سب رلائیں گے
اپنی ہستی تو کاغذی ہے گلؔ
یاد ہم کس کے دل کو آئیں گے

0
45
کرم کی عطا ہو عطائے رسول
عطائے خدا ہو عطائے رسول
تمہیں سلطنت ہند کی رب نے دی
ہمیں کچھ عطا ہو عطائے رسول
غریبوں پہ اپنی کرم کیجیے تو
غریبِ نواں ہو عطائے رسول

64
یارب دعائے خیر کی عادت نہ ختم ہو
دل سے نبی کے آل کی چاہت نہ ختم ہو
دل میں بسا دے آل محمد سے تو وفا
پھر زندگی سے ان کی محبت نہ ختم ہو
یہ زندگی ہی ختم ہو مطلب نہیں کوئی
لیکن کبھی بتول کی الفت نہ ختم ہو

0
65
دل کی دھڑکن تیز ہوئی ہے یاد نبی کی آئی ہے
ہلچل ہلچل دل میں مچی ہے یاد نبی کی آئی ہے
نور نبی کی بات بتاؤں آؤ آؤ نعت سناؤں
محفل نعتِ پاک سجی ہے یاد نبی کی آئی ہے
عشق نبی کا دل میں بسا دنیا کی الفت سے بچا
دنیا پل دو پل کی گھڑی ہے یاد نبی کی آئی ہے

91
مجھ خطاور کی خطاؤں کا رسالہ نہ بنا
جرم مقبول ہے مجھ کو تو تماشہ نہ بنا
مجرمِ عشق کو منظور ہے عادل کا عدل
میں ستمگر ہوں کوئی ایسا بہانہ نہ بنا

52
لا خدا کو بھا گیا ظالم کا سجدہ ہائے ہائے
لطف اب دیتا نہیں مسلم کا سجدہ ہائے ہائے
وقت کے فرعونوں نے لے لی امامت کی سند
کھو گیا ہے کیا کہیں عالم کا سجدہ ہائے ہائے

48
قلم کو مشک سے دے غسل پھر دل کی صفائی کر
وضو کر کے ادب سے نعت آقا کی لکھائی کر
ادب کا رکھ خیال اس دم کہ جب نعتیں لکھائی کر
درودِ پاک پڑھ پھر نعت سرور کی سجائی کر
نگاہوں میں سما جاۓ جو صورت شاہِ خوباں کی
تو پھر یاسین اور حامیم کی جلوہ نمائی کر

56
مالک و مولا ہے وہ اے بندۂ رب
باقی ہے عبدِ خدا اے بندۂ رب
ذرے ذرِ پر ہے اسی کی ہی نظر
قادرِ مطلق ہے وہ اے بندۂ رب
اس کے ہاں چلتا نہیں ہے شاہ و فقیر
اعلی و ادنی ہے سب اے بندۂ رب

69
جان و دل جان و جگر جانِ وفا ہے اقصٰی
صرف مسجد نہیں مولا کی رضا ہے اقصٰی
دینِ وحدت کی تجلی کی ضیا ہے اقصٰی
اہلِ قرآن کو اسرا کی ندا ہے اقصٰی
گود میں تیرے رسولوں نے ولادت پائی
شبِ اسرا میں محمد ﷺ کی دعا ہے اقصٰی

63
دین کے تم پھبن السلام السلام
اے حسین و حسن السلام السلام
۔
مولیٰ حیدر کے گل جان زہرا بتول
باغ جنت کے گل تم ہو نورِ رسول
تم کو بھیجیں سلام انبیا و رسل

37
ہزاروں ظلم سہ کر لب کشائی وہ نہیں کرتے
خدا کے نیک بندے درد کا شکوہ نہیں کرتے
مزین سینہ رہتا ہے صدا عشقِ الٰہی سے
ولی اللہ اپنی شان کا دعویٰ نہیں کرتے
عطا جو کچھ بھی کرتے ہیں، الٰہی کے خزانہ سے
بلا مرضی خدا کچھ بھی ولی اللہ نہیں کرتے

74
اعلی امام تم ہو عالی مقام تم ہو
امت کے مہدی ہادی جانِ تمام تم ہو
تم جانشین حیدر ؓ بازوِ حسن ؓ تم ہو
زہرا ؓ کے چین تم ہو نانا کے نام تم ہو
توحید کی بقا ہو تم دین کی پناہ ہو
دینِ نبی کے بے شک اعلی نظام تم ہو

50
اس روضۂ اطہر کے انوار کا کیا کہنا
آمد ہے فرشتوں کی، دربار کا کیا کہنا
ہے چاند یہ جلوہ نما جس طرح ستاروں میں
جھرمٹ میں صحابہ کے، سرکار کا کیا کہنا
سینے سے لگاتے ہیں کالے ہوں کہ گورے ہوں
اس رحمتِ عالم کے کردار کا کیا کہنا

2
80
محفلِ رنگ مدحت سجائیں گے آج
سوے خضرا سماعت لے جائیں گے آج
رات بھر ان کی مدحت سجائیں گے آج
اپنی سوئی یہ قسمت جگائیں گے آج
دل نشیں اپنی شب کو بنائیں گے آج
گھر میں شمعِ محبت جلائیں گے آج

65
اپنا مسکن ہی بھلا بیٹھے ہیں
باغِ فانی کو سجا بیٹھے ہیں
سوچ کر سُرمہ رکن عشرت کو
گرد آنکھوں میں لگا بیٹھے ہیں
عشق کے نام پہ خود کر کے ستم
عزت و حُسن گوا بیٹھے ہیں

122