| اے شفیعِ امم دافعِ ظلم و غم، آقا کیجیے کرم اب خدا کے لیے |
| کوئی حامی نہیں، بے سہارے ہیں ہم، آقا کیجیے کرم اب خدا کے لیے |
| آپ سارے ہی عالم کے مختار ہیں، رحمتِ کل جہاں رب کے دلدار ہیں |
| آپ کے در پہ دامن پسارے ہیں ہم، آقا کیجیے کرم اب خدا کے لیے |
| غم کے طوفان میں کشتی میری پھنسی، مطلبی دہر ہے کوئی آیا نہیں |
| اپنے اعمال سے ہیں بہت دیدہ نم، آقا کیجیے کرم اب خدا کے لیے |
| لوگ قرآن سے اب بغاوت کریں، اہلِ ایمان پہ ظلم و وحشت کریں |
| نفس کے ہیں پجاری وہ اہلِ ستم، آقا کیجیے کرم اب خدا کے لیے |
| آنسوؤں سے لکھی نعتِ خیرِ امم، آ گیا اب بلانے کا وقتِ کرم |
| دور فرما دیں دل سے یہ فرقت کا غم، آقا کیجیے کرم اب خدا کے لیے |
| دور فرما دیں آقا یہ اب تیرگی، مل ہی جائے گی گل کو نئی زندگی |
| ختم فرما دیں شاہا یہ رنج و الم، آقا کیجیے کرم اب خدا کے لیے |
معلومات