مچی دھوم ہر سو ہے ان کی ولادت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی
فضا خوشنما اور ہے ہر سو مسرت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی
حلیمہ! ہے قسمت تمہاری نرالی، ترے گود میں ہے دو عالم کا والی
مٹانے ترے سر سے فقر اور غربت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی
ہوئی بااعانت وہ لاغر سواری، کئی دن کی منزل پہر میں سِدھاری
طبیبِ دو عالم وہ جامع کرامت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی
ہوا کفر غارت نبوت سے ان کی، ہوا بول بالا رسالت کا ان کی
اگا حق کا سورج مٹا ابر ظلمت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی
یہ بوجہل بولا اگر تم نبی ہو تو مٹھی میں ہے کیا ہمیں یہ بتا دو
یہ مٹھی سے کنکر ہے دیتی شہادت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی
نہ ادنٰی نہ اعلی نہ گورا نہ کالا محمد ﷺ کی امت بڑی شان والا
وہی بن کے سارے زمانے کے رحمت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی
غلاموں کو سینے سے اپنے لگانے وہ عورت کی عظمت جہاں کو بتانے
غریبوں کے آقا وہ غمخوارِ امت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی
نبوت ہے آخر شہِ انبیاء پر وہ ملحد ہے گل جو بنے اس کا منکر
وہ پہنے ہوئے تاجِ ختمِ نبوت لو آۓ زمیں پر دو عالم کے والی

0
28