| عشق سرکارِ دو عالم کا جلا قندیل ہے |
| کیا بجھائے حق کا منکر تو حسد تمثیل ہے |
| زندگی کا اپنی مقصد ہو فقط عشقِ نبی ﷺ |
| گر نہیں عشقِ محمد ﷺ زندگی تذلیل ہے |
| وہ مکیں ہیں لامکاں کے، کون ہو ان کی طرح |
| اور جن کے در کا درباں حضرتِ جبریل ہے |
| ہاتھ میں تلوار ننگی، تھا ارادہ قتل کا |
| دیکھ کر صورت نبی کی، دل ہوا تبدیل ہے |
| اب نہ مانگے گا کبھی قربانیاں دوشیزہ کی |
| یہ عمر فاروق کا خط، سن لے بحرِ نیل ہے |
| کیا کرے مدحِ سرائی، گل! مرے سرکار کی |
| جس کی مدحت آیتیں قرآن کی تنزیل ہے |
معلومات