واللہ مصطفیٰ سے کیا الفت رضا کی ہے
دونوں جہاں میں دیکھئے شہرت رضا کی ہے
عشقِ نبی کا ہاتھ میں جب سے قلم لیا
بھاگے ہیں مرتدین یہ ہیبت رضا کی ہے
مغلوب ہو کے رہ گئی تحریکِ تھانوی
تاریخ میں درخشاں شجاعت رضا کی ہے
بدخواہ کی جو شکل دکھائی ہے آپ نے
اہلِ نظر پکارے کرامت رضا کی ہے
ہوتا منافقوں میں ہی اپنا شمار بھی
پایا ہے دینِ حق یہ عنایت رضا کی ہے
مولا تیرا ہے شکر کہ احمد رضا دیا
تیری عطا سے آج حکومت رضا کی ہے
گستاخِ مصطفیٰ کو جو کہتا ہے دین دار
ایسے شقی پہ ضربِ ملامت رضا کی ہے
میں نے جو جانا لکھ دیا شانِ رضا میں گل
اللہ جانے اور کیا رفعت رضا کی ہے

0
2