| مرا دل جھوم جاتا ہے تمہاری یاد جب آئے |
| دہن نعتیں سناتا ہے تمہاری یاد جب آئے |
| تمہیں ہو راحتِ قلب و جگر، آرامِ تن و جاں |
| شفا ہر غم سے پاتا ہے تمہاری یاد جب آئے |
| شبِ اسریٰ کہا جبرئیل نے محبوبِ داور سے |
| خدا تم کو بلاتا ہے تمہاری یاد جب آئے |
| قمر کے ٹکڑے ہو جائیں، شجر سجدے میں گر جائے |
| پلٹ سورج بھی آتا ہے تمہاری یاد جب آئے |
| خدا نے دور سارے رنج و غم آدمؑ کی فرما دی |
| کرم اپنا دکھاتا ہے تمہاری یاد جب آئے |
| سجاتا ہے کوئی عاشق اگر میلاد کی محفل |
| تو نجدی روٹھ جاتا ہے تمہاری یاد جب آئے |
| زباں پر لفظ سجتے ہیں، سخن جب گل اٹھاتا ہے |
| قلم نعتیں سجاتا ہے تمہاری یاد جب آئے |
معلومات