| اس روضۂ اطہر کے انوار کا کیا کہنا |
| آمد ہے فرشتوں کی، دربار کا کیا کہنا |
| ہے چاند یہ جلوہ نما جس طرح ستاروں میں |
| جھرمٹ میں صحابہ کے، سرکار کا کیا کہنا |
| سینے سے لگاتے ہیں کالے ہوں کہ گورے ہوں |
| اس رحمتِ عالم کے کردار کا کیا کہنا |
| پتھر نے پڑھا کلمہ، پیڑوں نے کیا سجدہ |
| مومن تو فدا ہیں ہی، اغیار کا کیا کہنا |
| اللہ کی عطا سے وہ قاسم ہیں زمانے کے |
| ہر منگتا یہ کہتا ہے، مختار کا کیا کہنا |
| تنکے بھی کھجوروں کے کفار پہ بجلی تھے |
| ایمان کی طاقت کی تلوار کا کیا کہنا |
| وہ غار بھی افضل ہے، وہ یار بھی افضل ہے |
| صدیقِ مجسم کے ایثار کا کیا کہنا |
| شیطان بھی راہ بدلے فاروق کی آہٹ پر |
| انصاف کے زیور کی کردار کا کیا کہنا |
| آقا کی قرابت سے دو نور ملے جن کو |
| عثمان غنی تیرے انوار کا کیا کہنا |
| بستر پہ محمد ﷺ کے بے فکر ہیں آج علیؓ |
| اس غیب کے محرم کے ایثار کا کیا کہنا |
| اک وار ہی کافی ہے کفار مٹانے کو |
| اس فاتح خیبر کی تلوار کا کیا کہنا |
| ملتی نہیں ثانی کہیں یاران پیمبر کی |
| یارانِ پیمبر میں ان چار کا کیا کہنا |
| یسرب جو کبھی تھا وہ آقا کا مدینہ ہے |
| اس خاکِ معطر پر بیمار کا کیا کہنا |
| اس بحر کے کاسے میں لفظوں کو سجا کر گل |
| گر نعت لکھی جائے اشعار کا کیا کہنا |
معلومات