ہم خاک نشینوں کا کوئی نہ سہارا ہے
اک تیرے سوا آقا کوئی نہ ہمارا ہے
دربارِ رسالت میں تقدیر بدلتی ہے
رحمت کا تیری آقا بے انت کنارا ہے
قرآں کی تلاوت میں، خطبے میں، شریعت میں
حق نے جو زمیں پر وہ پیغام اتارا ہے
وللیل کی زلفوں کی خود حق نے قسم کھائی
والشمس رخِ انور واللہ کیا پیارا ہے
اس خاکِ شفا کا کوئی رتبہ تو ذرا دیکھے
جس خاک کو آقا کے قدموں نے سنوارا ہے
دنیا کی شہنشاہی کچھ بھی نہیں آقا جی
تیری ہی گلی کا تو یہ بندہ اوارا ہے
ظلمت کی ہواؤں نے گھیرا ہے زمانے کو
سرکار کے قدموں میں اب اپنا گزارا ہے
جنت کی تمنا کیوں اس در کے فقیروں کو
سارے ہی جہانوں سے پیارا وہ د یارا ہے
محشر کی تپش سے وہ کیوں کر نہ اماں پائے
دامن جو شہِ دیں کا محشر میں پکارا ہے
اے گلؔ یہ ثنا خوانی بخشش کا وسیلہ ہے
محشر کی تپش میں یہ راحت کا اشارا ہے

0
4