Circle Image

عطاءالسلام سحر

@8Sahar313

خوش نوا دل رُبا سے ہوئی گفت گو
جب ہوا گُل بنفشہ کے مَیں رو بَرو
گُل بنفشہ نہیں وہ تھی چڑیا کوئی
کل خیالی جہاں میں تھی آئی ہوئی
رنگ ایسا تھا دل کو جو بھاتا گیا
اُس کی تعریف کے گن میں گاتا گیا

0
71
لے کے بیٹھا قلم تھا پرانی روِش
کوند جائے خیالات کی اِک تپش
لفظ پہلا جو لکھا تو پوچھا کیے
کیسے زندان خانے میں پَل پَل جیے
نکلیں زندان خانے سے جائیں کہاں
وادیوں کی طرف! کچھ بتا جانِ جاں

0
83
پل بھر میں ہیں چھانے والے
بامِ فلک پر روئی کے گالے
موسم نے ہے لی انگڑائی
شاید! ہیں یہ باراں لائے
سورج بھیّا پردہ نشیں ہے
کالی چادر تان کے لائے

0
112
جس کے قدموں کے نیچے ہے خُلدِ بریں
لا ، دکھا اُس کا ثانی ، ہے کوئی نہیں
گود سے گور تک جاں نچھاور کرے
پائے تسکین اُس کا یہ قلبِ حزیں
لب پہ شکوہ نہ ہو ، رخ پہ آئیں نہ بَل
قدر ایسی تو کر اے مرے ہم نشیں

0
110
مجھ کو دی آواز سنائی
تحفے لایا گاموں بھائی
پیارا سا اِک چاند ہے بھیا
میں نے خاص شبیہ بنائی
دل چاہے تو سادہ بھی ہیں
ہر اِک میں کی گیس بھرائی

0
76
عاطر بھائی ، عاطر بھائی
آج تمہاری شامت آئی
کل جو تم نے لڈو کھائے
چھوٹے بچے خوب رلائے
کرتے ہو تم روز شرارت
چھتر دیں گے خوب حرارت

0
102
سہ نہ پائیں گے سبھی زخمِ جگر ، پھر سوچ لو
 دل نشیں ، جانِِ وفا ، میرے قمر ، پھر سوچ لو
وقت مشکل گھیر لے تب پیچھے ہٹنا جرم ہے
دامنِ دل گیر ہوگا ہر ثمر ، پھر سوچ لو
اِس حیاتِ تلخ میں سایہ ملے گا ہی نہیں
بادِ صَرصَر نے مٹائے ہیں شجر ، پھر سوچ لو

0
76
فاختہ ٹہنی پہ آ بیٹھی
ساتھ میں چڑیا بھی جا بیٹھی
دونوں تھیں حیران بہت
رستے سے انجان بہت
گھر بھی ان کو جانا تھا
پنکی کو بھی پانا تھا

0
104
ذکر سے تر زباں ، میں کہاں تو کہاں
تجھ پہ قربان جاں ، میں کہاں تو کہاں
تو ہے صادق امیں ، مہ جبیں ، مہ جبیں
بات ہے یہ عیاں ، میں کہاں تو کہاں
تیری تعریف میں ، اترا قرآں مبیں
تجھ سا کوئی کہاں ، میں کہاں تو کہاں

0
87
دل سے آئی صدا ، تیری کیا بات ہے
ہو حبیبِ خدا ، تیری کیا بات ہے
تیرے آنے سے روشن جہاں ہو گیا
تو ہے سب سے جدا ، تیری کیا بات ہے
رات معراج کی ساتھ نعلین ہو
رب کو بھائی ادا ، تیری کیا بات ہے

0
108
اچھے اچھے پیارے بچے
پیارے ہیں وہ موتی سچے
وقت پہ اپنے کام کریں
نیک عمل کو عام کریں
پیار کے نغمے گاتے ہیں
شام کو پارک جاتے ہیں

0
122
پیارے بچے ، بھاگ کے آئے
من کے سچے ، بھاگ کے آئے
گیت خوشی کے گائیں گے
ساتھ کھلونے لائیں گے
بات یہ تو سن لے ڈولی
خود یہ لے کر چن لے ڈولی

222
گولو مولو ، موٹو یار
برفی سے ہے اس کو خار
بسکٹ کا ہے وہ شوقین
شربت پیتا ہے ذوقین
کَل وہ شہر سے لایا کار
جس کی کُل ہیں بتیاں چار

0
120
باغ میں ہرنی ایک پڑی تھی
مُنھ میں گھاس کی خشک لڑی تھی
کالو بندر بھاگ کے آیا
خاص وہ ایک پیام تھا لایا
اچھی ہرنی ، پیاری ہرنی
دیر ذرا اِک پل نہیں کرنی

0
104
تیری گزری جوانی مرے نام تھی
تیری ہر اِک کہانی مرے نام تھی
بزم میں ، دشت میں یا کسی رات ، دن
ہر گھڑی وہ سہانی مرے نام تھی
کچھ بتا! تجھ کو آخر یہ کیا ہو گیا ؟
کل تلک ہر نشانی مرے نام تھی

0
109
وہ آئے گی کسی دن پھر مجھے کیوں ہے یقیں آخر
وہ رہزن تو نہیں دل کی ، یہاں کی ہے مکیں آخر
چمکتا چاند سا چہرہ ، خماری اُس کے گیسو میں
کیا تھا قتل آنکھوں نے بنے خاکِ نشیں آخر
کوئی تو بات ہے اُس میں ، کوئی منتر تو پڑھتی ہے
زمانہ یوں نہیں قدموں میں اُس کے ہم نشیں آخر

0
125
مرے محسن! مرے جانم! سہارے مار ڈالیں گے
کہ جن پر ہے یقیں تجھ کو ، دلارے مار ڈالیں گے
وہ اپنا ہو کے بیگانہ بنا پھرتا ہے کوچے میں
صدائے دردِ دل سمجھو ! پیارے مار ڈالیں گے
وہ جن پر کل تلک مجھ کو بھروسا تھا ، محبت تھی
عدو کی عادتیں پرکھو ، اشارے مار ڈالیں گے

0
98
چِٹھی میرے سر کے اوپر آ گئی
اِک نہیں آئی تو وہ بس نیند ہے

0
100
قعرِ دریا سے اُٹھا لائے ہو موتی
کتنے دام ہیں اِس کے بولو اور تولو
کتنی مشکل ہے سہی ڈھونڈتے پھرتے رہے
غم کا دفتر نا ہی کھولو اور تولو

0
103
فقط دو گام پے گھر تھا ، مَنا جاتا ، تو کیا ہوتا ؟
گرے ہیں ، چوٹ کھائی ہے ، سُلا جاتا ، تو کیا ہوتا ؟
کُھلا رکھا ہے دروازہ ، نظر رستے پہ رکھی ہے
اچانک تو گزر جانے پہ ، آ جاتا ، تو کیا ہوتا ؟
چلو اِک بار پھر سے اجنبی ہم دونوں بن جاتے
مجھے درد و اَلم کچھ تو ، سُنا جاتا ، تو کیا ہوتا ؟

0
114
میں پاگل تھا ، میں پاگل ہوں اور اب بھی رہنا چاہوں گا
غزل کہی تھی اور کہوں گا ، اب بھی کہنا چاہوں گا
بیٹھ ذرا سن ! چھوٹی سی بس ایک مری یہ خواہش ہے
قلم تھا پہلے اور رہے گا ، ساتھ میں رہنا چاہوں گا
کل اِک مردِ خَر کے مُنھ سے سننے میں یہ آیا ہے
اہلِ ادب ہیں کرتے دھندہ ، میں بھی کرنا چاہوں گا

0
103
گاموں شُُغلی شُغل دکھائے
جب بھی گاوں میں وہ آئے
اُس نے بندر ایک سدھایا
جس کو ہے وہ شہر سے لایا
گاموں چھَن چھَن کرتا جائے
بندر اُچھلے ، ناچ دکھائے

0
166
ببلی نے اِک مرغی پالی
دیکھنے میں ہے بھولی بھالی
کُٹ کُٹ کُٹ کُٹ کرتی جائے
دانہ دنکا خوب ہے کھائے
انڈے اُس کے خالص دیسی
طاقت اُن میں گھی کے جیسی

130
عجب ہے حالِ دل مِرا مُہیب سے مُہیب تر
بنے ہیں رازداں مِرے رقیب سے رقیب تر
صنم کے گھر کا فاصلہ پتا نہیں ! نہیں ! نہیں !
ہے دل سے دل کا فاصلہ قریب سے قریب تر
اُسے خبر نہ ہو مِری بھَلا یہ کیسے ہو گیا ؟
کسی نے آ کہا ہے سچ ،عجیب سے عجیب تر

75
ببلی نے اِک گائے پالی
چارے کی ہے وہ متوالی
دودھ ہے لذت سے بھرپور
چہرے پر بھی لاوے نور
گائے بولے ، آ ، آ ، آئے
دیکھ کے ببلی خوش ہو جائے

2
162
سامنے یار ہو ، بزمِ گُفتار ہو
دل مچلتا رہے ، پیار ہی پیار ہو
رات پچھلے پہر ، چپکے چپکے سے میں
بوسہ دے لوں اگر پاس دل دار ہو
مل زمانے کی نظروں سے اوجھل ذرا
دیکھے کوئی بھی ہو یا طرف دار ہو

102
سنائے درد دل کیا کیا ، اہا ہا ہا ، اہا ہا ہا
کرے شکوہ شکایت کیا ، اہا ہا ہا ، اہا ہا ہا
بہانہ کر کے بستر پر میں لیٹا تھا چپک کر تو
دبایا مجھ کو ہلکا سا ، اہا ہا ہا ، اہا ہا ہا
نظر پہلی پڑے جوں ہی فدا تجھ پر زمانہ ہو
ترا چہرہ تو ہے ایسا ، اہا ہا ہا ، اہا ہا ہا

1
127
مری افسردہ آنکھوں میں وہی غم کا ترانہ ہے
مرا ہنسنا ستم تیرے چھپانے کا بہانہ ہے
مری کشتی کنارے تک پہنچ پاتی بھلا کیسے ؟
تلاطم خیز موجوں کا بنی پہلے نشانہ ہے
رقیبوں کی شکایت نے مجھے برباد کر ڈالا
حقیقت سے پرے ہوکر فسانہ ہی فسانہ ہے

0
139