| نگاہوں میں ترا چہرہ، تو ہم کیسے بکھر جائیں
|
| بتا اے جانِ من! ہم چھوڑ کر تجھ کو کدھر جائیں
|
| تری صورت تری الفت کو ہم ترسے بہت جاناں
|
| کہیں یادوں کے اس گہرے سمندر میں گزر جائیں
|
| ہمیں ہر پل ستاتا ہے، تمہارا ہی خیال اب تو
|
| تری چاہت کی بارش میں، تمنا ہے نکھر جائیں
|
|
|