اک کسک سی مجھے رلانے لگے
یاد تیری مجھے ستانے لگے
سنگ تیرے جو پل گزارے کبھی
زندگی میں وہی سہانے لگے
یاد میں کھو گئے تری ہمنوا
حالِ دل اب تجھے سنانے لگے
جرمِ الفت کی یوں ملی ہے سزا
اشک آنکھوں سے ہم بہانے لگے
بات دل کی سدا چھپی رہ گئی
لب سلے جب اُسے بتانے لگے
یاد اس کی مٹا نہیں پائے ہم
دل کو سمجھا لیا، زمانے لگے
شادؔ مجبوری ان کی کیا تھی وہاں
اس قدر ہم کو آزمانے لگے

0
22