یہ دل اس دید کی خاطر، بہت بیتاب رہتا ہے
مری آنکھوں میں ہر لمحہ، ملن کا خواب رہتا ہے
کہو اے شادؔ! یہ نظریں، اسے کیسے بھلا دیکھیں
کہ اس کے حسنِ کامل پر، حیا کا باب رہتا ہے

0
2