خام خواہش کو کبھی تو، اپنی منزل مت بنا
جو مقدر سے ملا ہے، گیت بس اس کے سنا
قید کیوں کر ہو گیا تو، درد کے اس جال میں
تیرگی نے کب تری راہوں کو اے دل ہے چنا
حسرتیں تو بے شمار اب، میرے دل میں دفن ہیں
عمر بھر کے دکھ سہے پر، ان کو میں نے کب گنا
راکھ ہو کر اڑ گئے ہیں، خواب میرے دشت میں
میں نے تو امید کا اِک جال ایسا تھا بُنا
خستہ جانی میں رہی اب، کوئی بھی خواہش نہیں
ہو گئی ہے شادؔ میری، ساری دنیا اب فنا

0
27