نگاہوں میں ترا چہرہ، تو ہم کیسے بکھر جائیں
بتا اے جانِ من! ہم چھوڑ کر تجھ کو کدھر جائیں
تری صورت تری الفت کو ہم ترسے بہت جاناں
کہیں یادوں کے اس گہرے سمندر میں گزر جائیں
ہمیں ہر پل ستاتا ہے، تمہارا ہی خیال اب تو
تری چاہت کی بارش میں، تمنا ہے نکھر جائیں
ذرا کھولو دریچے تم نگاہوں کے مرے ہمدم
تری آنکھوں کے رستے دل کی وادی میں اتر جائیں
یہی ہے شادؔ کی خواہش، ملے مجھ کو وفا تیری
مرے ہمدم! کہیں مل کر نہ ہم دونوں بچھڑ جائیں

0