فرصت کے ان لمحوں میں
آج تو ہی بتا کیا یار لکھوں؟
مجھے تم سے ہے کتنا پیار لکھوں؟
ہو محبت کا کیسے اظہار لکھوں؟
تیری ترچھی نگاہوں کے وار لکھوں؟
جو تیر ہے دل کے پار لکھوں؟
کیسے بنتے ہیں اپنے اغیار لکھوں؟
نفرت میں ہے جلتا سنسار لکھوں؟
جو الم گزرے وہ انبار لکھوں؟
آج تو ہی بتا کیا یار لکھوں؟
محبت میں ہے جو تیرا حال لکھ دے
اسیرِ جن زلفوں کا! وہ جال لکھ دے
جو ہے تیرے من میں وہ خیال لکھ دے
فقط مجھ سے اپنا وصال لکھ دے
سنگ تیرے نہیں زوال لکھ دے
تو ہی ہے میری ڈھال لکھ دے
ہماری محبت لازوال لکھ دے
بس اب اور نہ کر تو سوال لکھ دے

0
2