| میں راضی ہوں مرے مالک! مجھے جس حال میں رکھا |
| بہت مشکل گھڑی ہے یہ، مجھے تجھ سے شکایت ہے |
| کسی کے زخمِ دل کو یوں تو تڑپایا نہیں کرتے |
| کسی آنگن کی خوشیوں کو کبھی لوٹا نہیں کرتے |
| کبھی یوں بے سہارا بھی تو چھوڑا ہی نہیں کرتے |
| پِدر بیٹوں کو مٹی کے حوالے تو نہیں کرتے |
| یہ صدمہ اس قدر بھاری ہے سب ہمت پگھلتی ہے |
| خدائی سے تری اک پل کو نیت بھی بدلتی ہے |
| مگر پھر دل کو سمجھاتا ہوں، یہ کہہ کر مرے مولا |
| ترے محبوبؐ نے بھی غم یہ بیٹوں کا اٹھایا تھا |
| میں اک ادنیٰ بشر تیرا، تو مالک دو جہانوں کا |
| مری جھولی کو بھر دے گا، مجھے تجھ سے ہی آشا ہے |
| بڑے صدمے سہے میں نے، مگر لب پر یہی آیا |
| میں راضی ہوں مرے مالک! مجھے جس حال میں رکھا |
معلومات