شبِ ہجراں، اکیلے اب، نہیں مجھ سے گزاری جائے
یہ کانٹوں کی بھری گٹھڑی، مرے سر سے اتاری جائے
پلا دے جامِ وصل ایسا، مجھے اے میرے ساقی تو
یہ بڑھتی دردِ الفت کی، سبھی دل سے خماری جائے

0
1