آئینے میں نہ زلفیں سنوارا کرو
اپنی نظروں کا صدقہ اتارا کرو
دیکھ کر چاندنی بھی لجانے لگی
اس قدر تم نہ خود کو نکھارا کرو
اوڑھ لو تم ردائے محبت میری
میرے جذبات کو نہ ابھارا کرو
دل میں طوفانِ الفت مچلنے لگے
اتنی چاہت سے مجھ کو پکارا کرو
جان و دل تم پہ صدقے کریں گے صنم
بس ذرا سا جو تم اک اشارا کرو
کچھ دلِ ناتواں کی بھی لو تم خبر
وادیِ عشق سے جب گزارا کرو
آسماں پر ہمیشہ چمکتا رہے
پیار کا ایسا روشن ستارا کرو

0