Circle Image

Aman

@azadraj

خود سے باہر نکل رہا ہوں میں

وہ لمحہِ وصال بھی اب ڈھونڈنا پڑا
اور قلبِ پائمال بھی اب ڈھونڈنا پڑا
ڈوبا ترے خیال میں ایسا کہ دلربا
مجھ کو ترا خیال بھی اب ڈھونڈنا پڑا
تجھ پر خزانے وقت کے ہم نے بہا دیئے
فردا تو کیا یہ حال بھی اب ڈھونڈنا پڑا

9
محسنِ دو جہاں ہیں ہمارے نبیؐ
رحمتِ جسم و جاں ہیں ہمارے نبیؐ
تپتے صحرا کو ٹھنڈک عطا ہو گئی
لائے ایسا سماں ہیں ہمارے نبیؐ
تھے وہ انکاری عورت کی حرمت سے جو
بیٹیوں کی اماں ہیں ہمارے نبیؐ

0
8
اس شوقِ آگہی نے جو آشفتہ سر کیا
اب بے خبر کیا مجھے ہے بے ہنر کیا
جو منزلوں پہ منزلیں ہم طے تو کر گئے
پہنچے کہاں پہ ہم نے جو اتنا سفر کیا
یہ رہ گیا سوال بھی دنیا کے سامنے
کیا کھو گیا ہے پاس سے ہے کیا امر کیا

0
22
دنیا میں کہیں اور کہاں ویسا فسوں ہے
اے پاک زمیں تجھ میں ملے ایسا سکوں ہے
پردیس میں احساسِ وطن مجھ کو ستائے
جو اس کے بنا حال مرا حالِ زبوں ہے
اب رہنا اگر ہے تو ہے مل جل کے ہی رہنا
اک قوم اگر ہیں تو لازم یہ ستوں ہے

0
4
دنیا میں کہیں اور کہاں ویسا فسوں ہے
اے پاک زمیں تجھ میں ملے ایسا سکوں ہے
پردیس میں احساسِ وطن مجھ کو ستائے
جو اس کے بنا حال مرا حالِ زبوں ہے
اب رہنا اگر ہے تو ہے مل جل کے ہی رہنا
اک قوم اگر ہیں ہم لازم یہ ستوں ہے

0
17
دنیا میں کہیں اور کہاں ویسا فسوں ہے
اے پاک زمیں تجھ میں ملے ایسا سکوں ہے
پردیس میں احساسِ وطن مجھ کو ستائے
جو اس کے بنا حال مرا حالِ زبوں ہے
اب رہنا اگر ہے تو ہے مل جل کے ہی رہنا
اک قوم اگر ہیں ہم لازم یہ ستوں ہے

0
8
پہلے رہتا تھا سارے شہر میں جو
میں کہیں خاص اب نہیں رہتا

0
13
ہے گزاری جو اذیت میں ہی ساری ہم نے
پھر بھی رکھا ہے ترا عشق ہی جاری ہم نے
کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے

0
26
کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے
ہم کو مقصود ترے عشق میں اک درجہ تھا
بازیِ عشق تو ایسے نہیں ہاری ہم نے

0
17
کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے
ہمایوں

0
14
خواہشیں تجھ سے ہیں جوڑی جو یہ ساری ہم نے
سلسلے ربط کے رکھنے تو ہیں جاری ہم نے
کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے

0
19
گرچہ سنبھال رکھی دل کی بیماری ہم نے
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے
پھر کبھی ہم نے نہ مانگی ہے خلاصی اُس سے
عشق تیرا جو کیا خود پہ ہے طاری ہم نے

0
22