کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے
ہم کو مقصود ترے عشق میں اک درجہ تھا
بازیِ عشق تو ایسے نہیں ہاری ہم نے
پھر کبھی ہم نے نہ مانگی ہے خلاصی اس سے
خود پہ اک بار کیا عشق جو طاری ہم نے

0
3