| دنیا میں کہیں اور کہاں ویسا فسوں ہے |
| اے پاک زمیں تجھ میں ملے ایسا سکوں ہے |
| پردیس میں احساسِ وطن مجھ کو ستائے |
| جو اس کے بنا حال مرا حالِ زبوں ہے |
| اب رہنا اگر ہے تو ہے مل جل کے ہی رہنا |
| اک قوم اگر ہیں ہم لازم یہ ستوں ہے |
| دنیا کو سناتا ہوں میں احوالِ دل و جاں |
| یہ دیس مرا عشق ہے یہ میرا جنوں ہے |
| اب پھر سے نہ آئے گا یہاں سانحہ کوئی |
| اک بار ملا درد جو وہ دردِ دروں ہے |
معلومات