خواہشیں تجھ سے ہیں جوڑی جو یہ ساری ہم نے
سلسلے ربط کے رکھنے تو ہیں جاری ہم نے
کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے
پھر کبھی ہم نے نہ مانگی ہے خلاصی اُس سے
عشق تیرا جو کیا خود پہ ہے طاری ہم نے
ہم نے سمجھا ہے اسے تیرے تحائف کی طرح
ہجر کی خود پہ سہی ضرب جو کاری ہم نے
تُو سمجھتا تھا ہمیں روگ لگا دے گا تُو
زندگی تیرے دکھوں سے ہے سنواری ہم نے

0
5